ہمارے خواب اور ان کی تعبیر
ہم سب کوئی نہ کوئی خواب دیکھتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ اپنی ذات کے متعلق خواب دیکھتے ہیں اور کچھ ملک ملت اور انسانیت کی بھلائی کے لیے خواب دیکھتے ہیں۔
اجتماعیت کے لیے خواب دیکھنے والے یقیناً عظیم لوگ ہوتے ییں اور جو ان خوابوں کی تعبیر کے لیے قربان ہو جاتے ہیں وہ ہمارے ہیرو بن جاتے ییں۔ مختلف اسلامی ممالک میں آج کچھ ایسے عظیم لوگ ہیں جو اسلامی اتحاد کے خواب دیکھتے ہیں جن میں ایران کے انسانی حقوق پر کام کرنے والے ڈاکٹر نوربخش اور ایران میں پیدا ہونے والی دانشور افغان خاتون سیدہ تہمینہ مظفری ہیں۔
تہمینہ مظفری بڑے فخر سے اپنا خاندانی تعلق مولانا جلال الدین رومی کے آبائی شہر بلخ افغانستان سے بتاتی ہیں۔ وہ رومی، شیخ سعدی، علامہ اقبال اور امام خمینی کی سوچ و فکر سے بڑی متاثر ہیں۔ وہ جب بھی اپنے خاندانی پس منظر پر بات کرتی ہیں تو آبدیدہ ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ ایران میں 1982 میں ایک مہاجر کی حیثیت سے جنم لینے کے بعد قضیہ افغانستان کی وجہ سے ابھی تک افغانستان جانے کا اپنا خواب پورا نہیں کر سکیں۔ وہ افغان قوم پرست نہیں بلکہ پان اسلام پر یقین رکھتی ہیں لیکن وطن کی محبت تو ہمارے پیارے نبی کو بھی ستایا کرتی تھی۔ میرے دورہ ایران کے دوران دوسرے کئی لوگوں کی طرح تحمینہ مظفری نے بھی مجھے بہت وقت دیا اور ایران میں تاریخی مقامات کی مجھے سیر کروانے کے علاوہ متعدد شخصیات سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جو میری زندگی کا یادگار حصہ بن گئی ہیں۔
ڈاکٹر نوربخش اور سیدہ تہمینہ مظفری نے فارسی میں ایک دستاویز تیار کی ہے جس میں انہوں نے اسلامی اتحاد کے لیے مڈل ایسٹ کی پراکسی جنگوں کے خاتمہ کو لازمی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید ان کی یہ تجویز کچھ لوگوں کو ایک خواب محسوس ہو گی مگر وہ اپنے اس خواب کے حق میں بڑے ٹھوس تاریخی دلائل دیتے ہیں۔ وہ جرمنی میں 16 اکتوبر 1648 کو ویسٹ فالیا کے نام سے طے پانے والے ایک ایسے امن معاہدہ کا ذکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یورپ میں تیس سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔ پانچ صدیاں قبل جب یہ معاہدہ ہوا تو کسی نے شاید سوچا بھی نہ ہو گا کہ ان خونی جنگوں میں ملوث یورپی اقوام ایک دن ایک ایسی یورپی یونین بنائیں گی جس یونین میں آج دنیا کا ہر شخص جانا اور رہنا پسند کرتاہے۔
اسلامی ممالک کے پاس یورپ کے نسبت زیادہ قدرتی وسائل ہیں لیکن کمی تحقیق و تخلیق اور اپنے وسائل پر اپنے اختیار کی ہے۔ آج ہر باشعور مسلمان اسلامی اتحاد کو ناگزیر قرار دیتا ہے کیونکہ دنیا علاقائی اور نظریاتی بلاکوں میں تقسیم ہو رہی ہے جہاں ہر بلاک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے۔ دنیا میں امن اور انصاف کے لیے عالمی سطح ہر سیاسی طاقت کا توازن ناگزیر ہے اور یہ توازن تنہائی نہیں اتحاد میں مضمر ہے۔ تین سال قبل ملیشیا میں ہونے والی اسلامی سمٹ میں مہاتر محمد اور طیب اردگان نے مشترکہ منڈی کی تجویز پیش کی تھی جس کی ایران اور قطر سمیت بیس ممالک نے حمایت کی تھی جبکہ سعودی عرب کے دبائو پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یہی نہیں کہ ملیشیا کانفرنس میں شرکت نہ کی بلکہ عمران خان اس کانفرنس کے موقع پر سعودی عرب چلے گئے۔ حالانکہ عمران خان اقتدار سے پہلے سب سے زیادہ جس مسلم لیڈر سے ۔متاثر تھے وہ مہاتر محمد تھے۔
بہرحال پاکستان ایک اہم اسلامی ملک ہے جس کا اسلامی دنیا میں لیڈنگ رول بنتا ہے۔ اسے اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے غیر جانبدارانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی اور کشمیر پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ وہ تنازعات سے نکل کر تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور دنیا میں متوقع کردار ادا کر سکے۔