اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 20 / اکتوبر / 2021
- 10300
کوئی بھی شخص جو منتخب پارلیمنٹ کی عظمت و بالا دستی پر ایمان رکھتا ہو، آئین ، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کے لئے جدوجہد کر رہاہو، اس پر لازم ہے کہ وہ ہر نوع کے جبر و استبداد بالخصوص عسکری حاکمیت کے بالمقابل منتخب وزیراعظم کی حمایت میں رطب اللسان ہی نہ ہو، جان سوزی کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔
ہمارے ملک میں سول ملٹری تعلقات کا ٹنٹا خاصا پرانا ہے۔ دعویٰ ہر وزیراعظم یہی کرتاہے کہ طاقتوروں کے ساتھ اس کے تعلقات بہت اچھے ہیں یا کم از کم انہیں اچھا بنانے کے لئے اندر خانہ وہ کوشاں بھی رہتا ہے لیکن کب تک؟ محترمہ بے نظیر اور میاں نوازشریف جیسے اپنے قدموں پر کھڑے ہونے والے ہردلعزیز وزرائے اعظم تو رہے ایک طرف، دیگر جو محض عسکری بیساکھیوں کے سہارے کٹھ پتلی کی حیثیت سے وزیراعظم بنتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر کار وہ بھی کیوں اپنا ایک صفحہ سالم نہیں رکھ پاتے۔ لیاقت علی، خواجہ ناظم الدین یا حسین شہید سہروردی صاحبان کو چھوڑتے ہوئے مابعد آنے والے وزرائے اعظم کی ایک کھیپ ہے جن کی حیثیت سوائے پتلیوں یا مہروں کے اورکچھ نہ تھی۔ خود لیاقت علی کی جناح صاحب کے سامنے کوئی حیثیت نہ تھی۔ جونیجو جیسا مرنجان مرنج شخص بھی طاقتور کے سامنے اپنا ایک صفحہ قائم نہ رکھ پایا۔ ظفر اللہ جمالی جیسا بے چارہ وزیراعظم بھی برداشت نہ ہوا۔
یہاں تو خود کو قائد عوام کہنے والا بھی محض اپنا بھرم ہی رکھتے پایا گیا ورنہ اس پتلے میں اگر جان ہوتی تو آدھا ملک گنوانے پر ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے کیوں ان کا کورٹ مارشل نہ کرواتا۔ اس شخص سے حمود الرحمن کمیشن رپورٹ تو پبلک کروائی نہ جاسکی۔ عوام مزید توقع کیا رکھ سکتے تھے؟ صرف دو نام بچتے ہیں جنہیں قدآور کہا جا سکتا ہے، میاں صاحب اور بی بی صاحبہ مگر ان دونوں قابل احترام وزرائے اعظم نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کمپروماز کیلئے کوئی کم کاوشیں یا قربانیاں نہیں کی ہیں۔ ان کی تفصیلات میں جائیں تو خاصی طویل ہیں لیکن ایک وقت کے بعد اگرچہ وہ مہرے نہ رہے تھے، انہوں نے قد آور قومی سیاستدان، قائد اور رہنما ہونے کا لوہا منوایا اور اس کی سزا بھی بھگتی۔ میاں صاحب تو ہنوز بھگت رہےہیں۔
اب آتے ہیں قومی قیادت کی کرسی پر براجمان کھلاڑی پر۔ سوال سامنے آتا ہے کہ اس کے لئے جمہور کی آواز پر یقین رکھنے والوں کی وہ بھاونائیں کیوں نہیں ہیں جو جونیجو اور جمالی جیسے کمزور ترین وزرائے اعظم کیلئے بھی تھیں۔ اس کی اولین وجہ یہ ہے کہ وہ جیسے تیسے بھی کٹھ پتلی تھے مگر انہوں نے اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی کیلئے اپنے مخالف سیاستدانوں کے ساتھ وہ کمینگی نہیں کی جس کے بدترین مظاہر ہم نے ستر کے بعد اب دیکھے ہیں۔ اقتدار کے حریص ہر دو اشخاص نے اس کرسی پر براجمان ہونے کے بعد اسے دوام بخشنے کیلئے وہ وہ بری حرکات کی ہیں اور ایسی بدزبانی کے مظاہرے کئے ہیں کہ انسانی وقار، شائستگی اور تہذیب کہیں آس پاس بھی کھڑی نہ ہوسکیں۔ کارکردگی صفرجمع صفر اور مساوی صفر ہے مگر تعلی و خود ستائی کے بلند بانگ دعوے ایسے ہیں کہ ہٹلر اور مسولینی واری صدقے جاتے ہوئے بھائی بند کہہ کر گلے لگا لیں۔
یہی وہ پس منظر تھا جس میں ولی خاں جیسے قومی سیاستدان کو یہ کہنا پڑا کہ اسے ہٹانے کے لئے ہمیں شیطان کی مدد بھی لینی پڑی تو لیں گے اشارہ واضح تھا۔ اور پھر وہی سب کچھ قوم نےدیکھا۔ سوال یہ ہے کہ آج پھر کہیں تاریخ اسی طرح خود کو دہرانےنہیں جا رہی ہے۔ اس شخص کی تو پھربھی کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ جڑیں تھیں جو مابعد پھوٹ بھی پڑیں جبکہ اب کے یہاں تو جڑ نامی کسی چیز کا دور و نزدیک کوئی وجود تک نہیں ہے۔ یہ تو عربی زبان والا بے جڑ ہے۔ اس ہستی کا جو انجام یہ گہنگار آنکھیں دیکھ رہی ہیں، کاش انگلیاں وہ لکھ بھی پاتیں۔
دوستی کی بات الگ ہے۔ انسان کو دشمنی میں ان حدود تک نہیں جانا چاہیے جنہیں ملاحظہ کرتے ہوئے آس پاس والوں کو بھی گھن آئے اور پھرکس برتے پر؟ اس شخص کے خلاف جس نے آپ پر ایک وقت میں نوازشات کی ہوں سلیم الفطرت انسان تو کسی کی نیکی سات پشتوں تک نہیں بھولتے۔ لیکن اگر طنیت اچھی نہ ہو یا مفاد پرستی نے بصارت چھین لی ہو تو پھر کہاں کی نیکی اورکہاں کا تعلق واسطہ۔۔۔۔۔۔ اکڑ پھوں وہ دکھائے جس کے کھیسے میں کچھ کارکردگی بھی ہو، پلے نہیں دھیلا کر دی پھرے میلہ میلہ۔ سول سپرمیسی کی بات وہ کرے جس نے اس کے لئے کبھی سوچا بھی ہو، جس کی پہچان ہی اس کا دھڑن تختہ ہو وہ اس کا واویلا کس منہ سے کر سکتا ہے۔ یہ تو ’کعبے کس منہ سے جائو گے غالب‘ والی بات ہے۔ یہ لفظ منہ سے نکالیں گے تو اگلوں نے کہنا ہے ہماری بلی اور ہمیں کو میاؤں۔ کیا اپنے ساتھ ہمیں بھی عوام کی نظروں میں گرانا ہے ذرا اپنی کارکردگی کا اعمال نامہ تو پیش کرو۔
عوام کے لئے تو گڈ یا بیڈ گورنس سے بڑھ کر اصل چیز بنیادی ضروریات زندگی ہوتی ہیں۔ مہنگائی کے طوفان میں اگر کوئی شخص اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا اہتمام نہیں کر پا رہا تو وہ کیا کرے آپ کے بلند و بانگ دعوؤں کا، کیا اس نے آپکی لچھے دار تقاریر کو چاٹنا ہے جبکہ وہ جانتاہے کہ ڈالر مہنگا ہونے سے روپے کی ویلیو ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ جن کو چور کہتے نہیں تھکتے ہو، وہ تو ڈالر ایک سو پانچ کا چھوڑ کر گئے تھے مگر تم نے معاشی ذلت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ایک شخص کو جو کام نہیں آتا، اسے اس کا پنگا لینے کی ضرورت کیا ہے؟ تیرنا نہیں آتا تو گہرے پانی میں چھلانگ کیوں لگائی؟ چلیں وہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے لیکن ڈرائیوری نہ آتے ہوئے آپ نے کس خوشی میں موٹروے پر قومی گاڑی کا سٹیرنگ تھام لیا؟
آج قومی معیشت کی بربادی تو عام سے عام آدمی بھی بھگت رہا ہے۔ احتساب کا کتنا واویلا کیا تھا مگر ہوا کیا؟ جھوٹے مقدمات بناتے ہوئے پوری دنیا میں اپنی عدالتوں کو ننگا کر دیا۔ برطانوی عدالتیں جن کی شفافیت کے تم گن گاتے نہیں تھکتے ہو، تمہارے جھوٹے اور انتقامی الزامات پر ان کے یکے بعد دیگرے اپوزیشن کے حوالے سے فیصلے آ رہے ہیں جنہیں دیکھ کر غیرت مند شرم سے منہ نہیں دکھا پاتا۔ داخلہ و خارجہ تمام پالیسیاں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ ملک کے اندر ہی دشمنیاں اور منافرتیں نہیں بھڑکائی ہیں، بیرون ملک بھی الحمدللہ کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں جس کی بدترین قیمت اس بد قسمت قوم کو برسوں چکاناپڑے گی۔
کوئی اگر ہماری فون کال سننے کو تیار نہیں تو یہ تذلیل محض ایک شخص کی نہیں، پاکستان کی ہے۔ اپوزیشن ملک گیر احتجاج کیلئے اس سے بڑھ کر سازگار ماحول کب پائے گی جبکہ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ صفحہ پھٹنے کے بعد مہربان غیر جانبدار ہو چکے ہیں۔