بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر25 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی
- بدھ 20 / اکتوبر / 2021
- 3220
بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش کر دی گئی۔ اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر بحث مکمل ہو گئی ہے، عدم اعتماد پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہو گی۔
رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ قرارداد کی 33 ارکان نے حمایت کی، اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر حمایت کا اعلان کیا۔اس موقع پر عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی خراب حکمرانی کے باعث مایوسی، بدامنی، بیروزگاری، اداروں کی کارکردگی متاثرہوئی ہے،وزیراعلی خود کو عقل کُل سمجھ کراہم معاملات کو مشاورت کیے بغیر چلارہے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اپوزیشن لیڈر اسمبلی کے پانچ اراکین لاپتہ ہیں، انہیں گرفتار کیاگیاہے۔ جو ایم پی ایز لاپتہ ہیں انہیں ایوان میں پیش کیاجائے۔ اگر اراکین کو پیش نہیں کیا تو احتجاج کریں گے گھروں کو نہیں جائیں گے۔ سابق وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی نے اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں 34 ارکان نے ووٹ دیا، 8 مزید ارکان بھی ووٹنگ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ جام کمال کو چاہیے کہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش ہونے کے بعد کہا ہے کہ کسی صورت استعفی نہیں دوں گا۔ ناکامی کاسامنا کروں گا۔ یہ سیاست کا حصہ ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کسی کو ناراض ہونے سے روک نہیں سکتے۔ ہر جماعت کا ایک طریقہ کار ہوتاہے۔مجھے اپنی جماعت اور اتحادیوں نے ووٹ دیا، اپوزیشن نے نہیں۔
سپیکر نے رولنگ دی کہ لاپتہ اراکین کو اسمبلی آنے دیا جائے جس پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر رکن اسمبلی لاپتہ ہیں تو ان کے لواحقین تھانے جاکر مقدمہ درج کرالیں۔