بریکسٹ کے بعد پولینڈ بھی برطانیہ کے راستے پر

کیا یورپین یونین کی چولیں ہل رہی ہیں، برطانیہ کی یورپین یونین سے بغاوت اور علیحدگی کو بریکسٹ کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی۔ گو برطانیہ میں ایک طرف یونین سے علیحدگی کے مضمرات ٹرک ڈرائیوروں کی کمی پٹرول پمپ اور سپر مارکیٹ کے خالی ہونے کی صورت میں ضرور نمودار ہور ہے ہیں  مگر وزیر اعظم بورس جانسن کے مطابق یہ معمولی سے وقتی اثرات ہیں۔

غالباً وزیراعظم کا اشارہ اس بڑے معاہدے کی طرف تھا جو برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد فرانس کو دھوبی پاٹ دے کر حاصل کیا ہے۔ آسٹریلیا کے لیے آبدوزوں کی خریداری کا سودا دراصل فرانس کے ساتھ مقصود تھا۔ مگر اب اسے برطانیہ نے حاصل کر لیا ہے۔ یورپی یونین میں رہتے ہوئے شاید ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کے بعد پولینڈ بھی پر لگا کر اڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پولینڈ کی موجودہ پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ یورپی یونین کی جانب سے فراہم کردہ تمام سہولیات اور مالی امداد تو بحیثیت یورپی یونین کے ممبر ملک کے وصول کرتا رہے مگر یورپی یونین کے جدید قوانین اور نسبتاً لبرل قوانین کی پابندی سے انکار کردے۔

پولینڈ کے کئی ایک ملکی قوانین یورپی یونین کے مروجہ قوانین سے متصادم ہیں۔ ان میں اسقاط حمل قوانین کے علاوہ کئی ایک قوانین اور اوربھی ہیں۔ پولینڈ کی سب سے بڑی عدالت کا یہ فیصلہ بھی کافی تنازعے کا سبب بنا ہے جس کے مطابق یورپین یونین کے قوانین کا اس کے رکن ممالک کے ملکی قوانین سے بالا تر ہونا مشکوک ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پولینڈ کو یورپین یونین میں رہتے ہوئے ایسی کیا مشکلات درپیش ہیں جس کی وجہ سے پولینڈ اپنی یورپی یونین کی رکنیت کو داؤ پر لگانے کو تیار ہے۔  اس کے لیے آپ کو تاریخ کے اوراق بھی پلٹنے ہوں گے۔

آپ سب جانتے ہیں کہ جرمنی ماضی میں پولینڈ کو سب سے زیادہ اپنی جارحیت کا نشانہ بنا چکا ہے۔ اسی لیے جب منقسم جرمنی اپنی حدود کو پھیلا کر یکجا ہو رہا تھا تو پولینڈ نے اپنے خدشات ظاہر کیے تھے کہ متحدہ جرمنی پولینڈ کی سالمیت کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ جرمنی کی یقین دہانی کافی نہیں تھی اس لیے برطانیہ اور امریکہ نے اس سلسلے میں ضمانت دے کر پولینڈ  کے خدشات کو کم کیا۔ دوسری طرف پولینڈ میں جرمنی کے یکجا ہونے سے بھی پہلے سے روسی بالا دستی کے خلاف  ایسی لہر اٹھ رہی تھی جو با لآخر روسی تسلط کو ختم کرنے کا سبب بنیں۔

اس تمام صورتحال میں پولینڈ کو اپنی پالیسی میں ایسی انتہائی تبدیلی لانا پڑی اور وہ امریکی حواریوں میں شامل ہوگیا۔ بس یوں سمجھ لیں کہ پولینڈ یورپ کا کمزور بچہ ہے جس پر ماضی بعید میں دوسری قومیں چڑھائی کرتی رہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی پولینڈ کے لیے یورپ میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اپنی بقا کے پیش نظر اپنی پالیسیوں کی سمت کو درست کرنا ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی نے پولینڈ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 

 آج یورپین پارلیمنٹ میں پولینڈ نے واشگاف الفاظ میں اپنے ملک سمیت تمام یورپی ممالک کی قومی بقا اور قومی شناخت کی پاسداری کی جو بات کی ہے اس سے یورپی یونین کے در ودیوار ہلتے محسوس ہو رہے ہیں۔ پولینڈ کے صدر نے یورپین کونسل کو سخت تنقید کا نشانہ بنا کر پولینڈ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا عملی طور پر راستہ کھول دیا ہے۔ اور پولینڈ کے ساتھ ساتھ ہنگری بھی ایسی ہی راہ اختیار کر رہا۔  یورپین یونین کو نہ صرف اندرونی یعنی اپنے رکن ممالک کی جانب سے مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اسے ترکی اور بیلا روس کی جانب سے بھی کافی دھچکا لگا ہے۔

بیلا روس کے صدر دراصل یورپ کے ' نوٹی بوائے' بن کر رہ گئے ہیں۔ اور انہوں نے یورپی یونین کو خاصا پریشان کر رکھا ہے۔ اور تازہ ترین شرارت مہاجرین کو پولینڈ کی طرف بھیج کر جرمنی کی طرف روانہ کرنے کا بندوبست کر رہے ہیں۔  ایک طرف تو یورپی یونین کو پولینڈ کو منانے کی ضرورت ہے کہ وہ یونین سے بغاوت نہ کرے تو دوسری جانب صورت حال یوں بن رہی ہے کہ پولینڈ اور جرمنی کے مابین پھیلی ہوئی چارسو کلومیٹر طویل سرحد پر نقل حمل کو سرحدی پولیس کنٹرول کرے۔ اگر ایسا ہوا تو پولینڈ واقعی یونین سے باہر ہو جائے گا۔ اسے کہتے ہیں نہ جائے ماندن نہ پائےرفتن