ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • جمعرات 21 / اکتوبر / 2021
  • 4740

منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی ادارے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکوس پلییئر نے تین روزہ اجلاس کے بعد ورچوئل کانفرنس میں کہا کہ ’پاکستان کو بدستور نگرانی میں رکھا جائے گا۔‘ ایف اے ٹی ایف نے اس سے پہلے فروری 2021 میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستان کو اس لسٹ سے نکلنے کے لیے تین نکات پر توجہ دینے کی ہدایت کی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کو 2018 میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ اجلاس کے دیگر فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے مارکوس پلیئر نے بتایا کہ بوٹسوانا اور موریشس کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا ہے جبکہ اردن، مالی اور ترکی کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے  2019 میں ترکی کے بارے میں جائزہ لیا گیا تھا جہاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے سنگین مسائل کی نشان دہی کی گئی تھی۔ ترکی نے چند نکات پر بہتری دکھائی ہے لیکن اسے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے متعلق معاملات کو مؤثر انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں ان کے نفاذ کو انٹرنیشنل کارپوریشن ریویو گروپ نامی ایک ذیلی تنظیم دیکھتی ہے۔ نومبر 2017 میں انٹرنیشنل کارپوریشن ریوویو گروپ کا اجلاس ارجنٹینا میں ہوا جس میں پاکستان سے متعلق ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں پاکستان کی جانب سے لشکر طیبہ، جیش محمد اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں کو دی جانے والی مبینہ حمایت کی طرف توجہ دلائی گئی۔

اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جس کے بعد فرانس اور جرمنی نے بھی اس کی حمایت کی۔

گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان نے بہت سے مشتبہ دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی کی ہیں۔ اسی سلسلے میں اپریل 2019 میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ سے منسلک تنظیموں اور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا اور سزائیں سنائی گئیں۔

جولائی 2019 میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا اور پھر ان پر فرد جرم بھی عائد کی گئی جبکہ گزشتہ سال نومبر میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں ساڑھے 10 سال قید کی سزا سناتے ہوئے ان کے تمام اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات پوری کرنے اور ٹیرر فاننسنگ کی روک تھام کے لیے 15 معاملات پر قانون سازی بھی کر چکا ہے۔