اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب آرڈی ننس کے خلاف درخواست سماعت کے لئے مقرر

  • جمعہ 22 / اکتوبر / 2021
  • 6900

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب آرڈیننس میں حالیہ ترامیم کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی۔ درخواست میں صوبائی و وفاقی کابینہ، ان کی کمیٹیوں کو دیے جانے والے تحفظ اور نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے عہدے کی مدت میں توسیع کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے قومی احتساب آرڈیننس (دوسری ترمیم) 2021 کے اختیارات کو چیلنج کیا تھا لہٰذا درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار لطیف قریشی کے وکیل جی ایم چوہدری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آرڈیننس کی دفعہ 4 میں تمام حکومتی مشینری کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا ہے۔

یہ دفعہ وفاقی اور صوبائی کابینہ، کاروباری برادری، کمیٹیوں یا ذیلی کمیٹیوں کے مشترکہ فیصلے، مشترکہ مفادات کونسل، قومی اقتصادی کونسل، قومی مالیاتی کمیشن، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی، صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی، محکمہ جاتی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو نیب کے دائرہ کار سے خارج کرتی ہے۔

آرڈیننس کے مطابق وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکسوں سے متعلق تمام معاملات، دیگر محصولات یا منافع بشمول ریفنڈز، یا ٹیکس سے متعلق خزانے کے نقصان سے ریونیو اور بینکنگ قوانین کے مطابق نمٹا جائے گا اور ان معاملات کو احتساب عدالت سے متعلقہ دائرہ کار کی عدالت کو منتقل کیا جائے گا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ’نیب کا دائرہ کار صرف چپڑاسی تک محدود رہ گیا ہے‘۔ قانون کی نوعیت امتیازی ہے کیوں کہ یہ مخصوص طبقے کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو آئین کی دفعہ 25 کے منافی ہے۔

جی ایم چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت غیر معینہ مدت تک کے لیے بڑھائی ہے کیوں کہ قانون میں موجودہ چیئرمین کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی تعیناتی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے وزارت قانون اور دیگر فریقین کے علاوہ سیکریٹری قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 15 روز میں رپورٹ طلب کرلی کہ کیا مذکورہ آرڈیننس ایوان میں پیش کیا گیا تھا یا نہیں۔