شوکت ترین، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ختم کیے بغیر امریکا سے روانہ ہوگئے

  • جمعہ 22 / اکتوبر / 2021
  • 3730

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو شوکت ترین، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مذاکرات ختم کیے بغیر واشنگٹن سے روانہ ہوگئے ہیں۔

یہ مذاکرات آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی انتہائی ضروری توثیق کے لئے ہورہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی ادارے کے ساتھ 6 ارب ڈالر کی قرض سہولت کی بحالی کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سیکریٹری خزانہ واشنگٹن میں ہی موجود ہیں۔

یہ مذاکرات آئی ایم ایف کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کے لیے کیے جارہے ہیں۔ شوکت ترین اکتوبر کے اوائل میں واشنگٹن پہنچے تھے اور دس روز بعد 15 اکتوبر کو نیویارک روانہ ہوگئے تھے۔

انہیں وہاں سے لندن جانا تھا لیکن وہ منگل کو واپس واشنگٹن پہنچے تھے کیونکہ آئی ایم ایف کے عہدیدار نے نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ مذاکرات میں ’بہت اچھی‘ پیشرفت ہوئی ہے۔ بدھ کی شام تک پاکستانی وفد کو مثبت نتیجہ آنے کی اُمید تھی اور اس نے میڈیا کے ساتھ اچھی خبر شیئر کرنے کے لیے جمعرات کی صبح نیوز بریفنگ شیڈول کی تھی۔

تاہم اسی رات وفد نے میڈیا کو بریفنگ منسوخ ہونے کا پیغام بھیج دیا۔ جمعرات کو شوکت ترین نیویارک سے بین الاقوامی پرواز پکڑنے کے لیے واشنگٹن سے بذریعہ ٹرین روانہ ہوگئے۔ وہ ممکنہ طور پر وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب میں ان کے ہمراہ ہوں گے جو رواں ہفتے کے آخر میں ہونے کا امکان ہے۔

واشنگٹن کے دو دوروں کے دوران شوکت ترین نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا اور دیگر حکام سے دو بار ملاقاتیں کیں اور دونوں ملاقاتوں کے دونوں فریقین نے اُمید ظاہر کی کہ مذاکرات کا جلد مثبت نتیجہ نکلے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستانی حکام کا اب بھی اصرار ہے کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم اچھی جگہ پر ہیں اور ہمیں مثبت اشارے مل رہے ہیں‘۔ شوکت ترین کے واشنگٹن کے دوسرے دورے کے دوران ان کے دفتر نے میڈیا سے حکومتی نوٹی فکیشن کی کاپی شیئر کی جس کے مطابق انہیں مشیر خزانہ بنادیا گیا ہے۔

پاکستانی ٹیم، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے خاموش ہے لیکن فنڈ کے ذرائع نے کہا کہ حکومت آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے فرق کو کم کرنے کے لیے کچھ ضروری اقدامات اٹھانے میں تذبذب کا شکار ہے۔

حکومت کو بظاہر یہ خدشات ہیں کہ ان اقدامات کے باعث ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت، عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔ مالیاتی فنڈ کی جانب سے جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ان میں بجلی اور پی آئی اے و اسٹیل ملز سمیت حکومتی ادارے شامل ہیں۔

فنڈ کے ذرائع نے کہا ہے کہ ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنا حقیقی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے حال ہی میں کورونا وبا کے بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے پاکستان کو 2.7 ارب ڈالر جاری کیے تھے۔