ٹی ایل پی احتجاج:موبائل فون و انٹرنیٹ سروس معطل، اسلام آباد میں سڑکوں پر رکاوٹیں
- جمعہ 22 / اکتوبر / 2021
- 4820
کالعدم جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج کے سبب لاہور کے مختلف علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند ہیں۔
ٹی ایل پی کی طرف سے جمعے کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد پولیس نے مبینہ صوبے بھر سے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ ٹی ایل پی نے گزشتہ روز اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکومت کو جمعے کی دوپہر تک کا وقت دیا تھا۔ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں ٹی ایل پی نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان ٹی ایل پی صدام بخاری نے کہا ہے کہ وہ حکومت سے محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ اُن کے صرف دو مطالبات ہیں۔ حکومت تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی کو رہا کرے اور وعدے کے مطابق پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالے۔
پولیس ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے باعث جماعت کے مرکز یتیم خانہ چوک میں مسجد رحمت العالمین کے اطرف میں کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیے ہیں۔ پولیس نے تنظیم کے لاہور سے 150 کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔
پولیس کو ہر قسم کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں اور اضافی پولیس نفری کو بھی تیار رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ پولیس نے انتظامیہ کی مدد سے یتیم خانہ چوک اور اطراف میں کنٹینر لگا کر سڑکوں کو بند کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گزشتہ روز ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا تھا جس کا مقدمہ لاہور کے تھانہ اقبال ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹی ایل پی کے کارکنوں نے گزشتہ روز اورنج لائن میٹرو ٹرین کے ایک اسٹیشن کو نقصان پہنچایا تھا جس کے باعث پولیس نے مقدمہ درج کر کے 22 افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کے بند ہونے، موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یتیم خانہ چوک، اسکیم موڑ اور اور موڑ سمن آباد کے علاقوں میں ٹی ایل پی کے احتجاج کے باعث تمام کاروباری مراکز بھی بند ہیں۔
ٹی ایل پی کے احتجاج اور لانگ مارچ کے اعلان کے باعث لاہور میں اورنج لائن ٹرین سروس اور میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج کے باعث انتظامیہ نے اسلام آباد کی اہم سڑکوں کو کنٹرینر لگا کر بند کر دیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری ان سڑکوں پر تعینات کردی گئی ہے۔
ماضی میں تحریک لبیک پاکستان نے راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے جنکشن فیض آباد پر دھرنا دیا تھا جس کی وجہ سے جڑواں شہر مفلوج ہوکر رہ گئے تھے۔ اس بار بھی ٹی ایل پی کی طرف سے فیض آباد پہنچنے کی کال دی گئی ہے۔
اس لئے راولپنڈی انتظامیہ نے فیض آباد کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد کی طرف ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا اعلان کیا ہے جن میں نائنتھ ایونیو اور راول پنڈی صدر کی طرف پشاور روڈ کے راستے شامل ہیں۔
پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو فیض آباد پر واٹر کینن، آنسو گیس کے شیلز اور لاٹھیوں کے ہمراہ رکنے کے احکامات دیے گئے اور پولیس نے اعلان کیا کہ فیض آباد پر کسی صورت قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔