مقامی جمہوری حکومتیں او رسیاسی ترجیحات کا تعین
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 22 / اکتوبر / 2021
- 5810
جمہوری حکمرانی او رسیاسی استحکام کے لیے مقامی حکومتوں کا نظام پہلی او ربنیادی سیڑھی کا کردار ادا کرتا ہے۔بنیادی اصول یہ ہی ہے کہ جس ملک میں مقامی حکومتوں کا نظام موجود نہیں وہاں جمہوریت نہ تو پنپ سکتی ہے او رنہ ہی لوگوں کے بنیادی حق یا حقوق کی ضمانت دے سکتی ہے۔
اسی بنیاد پر یہ قول بار بار دہرایا جاتا ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کے بغیر جمہوریت نامکمل ہوتی ہے۔مسئلہ محض مقامی حکومتوں کے انتخابات کا نہیں اور نہ ہی انتخابات مقامی جمہوریت کو مستحکم کرتے ہیں۔ انتخابی عمل پہلی سیڑھی تو ہوسکتی ہے مگر جب تک ہم سیاسی، جمہوری اور قانونی فریم ورک میں اپنے ریاستی یا سیاسی نظام میں اس بنیادی اصول یعنی تیسرے درجے کی حکومت کوتسلیم نہیں کریں گے، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے بعد مقامی حکومت کا نظام محض سیاسی مجبوری نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری بھی ہے۔
حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر پنجاب میں سابقہ مقامی حکومتوں کا نظام بحال ہوا ہے۔ حکومت نے اگرچہ تاخیری حربے اختیار کیے مگر عدالتی حکم پر بحال کرنا پڑا۔ صوبائی حکومت نے اپنی خوشی سے ان اداروں کو بحال نہیں کیا بلکہ عدالتی حکم کے تحت یہ ادارے بحال ہوئے ہیں۔ مگر ان اداروں کی بحالی محض 31دسمبر 2021تک ہی محدود رہے گی۔کیونکہ سابقہ نظام کی مدت 31دسمبر 2021تک ہے۔ محض 70دن کے لیے ان اداروں کی بحالی سے مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑے گا۔ یہ ادارے محض مصنوعی طور پر بحال ہوئے ہیں او راس بات کا کوئی امکان نہیں کہ موجودہ حکومت کے سیاسی مخالفین کو کسی بھی سطح پر اس دوران کوئی سیاسی، انتظامی یا مالی اختیارات مل سکیں گے۔پنجاب میں سابقہ مقامی حکومتوں کے نظام کی مجموعی عوامی نمائندوں کی اکثریت مسلم لیگ ن کی ہے۔لیکن بطور جماعت مسلم لیگ ن کی بھی ان اداروں کی بحالی میں گرم جوشی دیکھنے کو نہیں ملی۔
کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کے نظام کی عدالتی حکم کے تحت بحالی سے مستقبل میں ان اداروں کی معطلی، بندش یا خاتمہ کی بات دہرائی نہیں جاسکے گی۔ یہ سوچ محض خوش فہمی پر مبنی ہے۔کیونکہ جب تک ہم اپنے دستور میں مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ نہیں دیں گے، سیاسی تلوار ہمیشہ مقامی حکومتوں کے نظام پر مسلط رہے گی۔ اس میں ہمارے سامنے ایک اچھی مثال بھارت کی ہے جہاں اس کے آئین میں باقاعدہ مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے ایک مکمل باب موجود ہے۔ ایسی ہی ترمیم ہماری سیاسی،انتظامی اورآئینی ضرورت ہے او راسی پر ہماری بھرپور توجہ ہونی چاہیے۔کئی کئی برسوں سے اس ملک میں چاروں صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل او ران کو خودمختاری دینے کا عمل تعطل کا شکار رہتا ہے۔لیکن کوئی صوبائی سطح پر موجود حکومتوں کے آمرانہ طرز عمل، غیر جمہوری سوچ اور انتخابات سے مسلسل فرار یا مقامی سطح پر سیاسی،انتظامی او رمالی اختیارات دینے کی پالیسی سے گریز پر جوابدہ نہیں۔
کیونکہ مقامی حکومتوں کا نظام صوبائی مسئلہ ہے تو وفاق اس نظام میں براہ راست کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔آخری راستہ سیاسی قوتوں یا سول سوسائٹی کے پاس عدالتی یا قانونی ہی رہ جاتا ہے۔لیکن عدالتی نظام میں چلنے والے مقدمات اور فیصلوں میں تاخیری حربوں کا فائدہ بھی برا ہ راست صوبائی حکومتوں کو ہی ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلے بھی عملی طور پر پاکستان میں مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
مسئلہ محض کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ ہمارے ریاستی یا حکومتی ڈھانچوں میں موجود ان خرابیوں کا ہے جس کی وجہ سے اس ملک میں صوبائی سطح پر مضبوط، مربوط،منصفانہ اور شفاف مقامی حکومتوں کا نظام ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں بن سکا۔سب سے زیادہ قصور صوبائی حکومتوں، ارکان قومی یا صوبائی اسمبلی کا ہے جو مقامی حکومتوں کے نظام کو اپنی سیاسی بقا، اختیارات او رترقیاتی فنڈز کے حصول میں ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔جب تک قومی سیاست میں سیاسی اور آئینی یا قانونی فریم ورک میں یہ بنیادی مسئلہ یعنی ترقیاتی فنڈز میں ممبران اسمبلی کی شمولیت، دلچسپی یا طاقت کے معاملات کو حل نہیں کیا جاتا یا اس میں کوئی توازن پر مبنی پالیسی نہیں بنتی تو یہ مقامی جمہوری نظام اہل سیاست، سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تماشہ کا منظر پیش کرتا رہے گا او ر ہم محض بے بسی کے ساتھ یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے۔
جو بنیادی اصول دنیانے مقامی جمہوری حکومتوں کے نظام کے لیے اختیار کیے اور ان کی مدد سے اپنے اپنے ملکوں میں یہ نظام چلایا جارہا ہے تو ہمیں ان سے ضرور سیکھنا چاہیے۔بنیادی بات جو ہمیں سیکھنی ہوگی کہ سیاست اور جمہوریت میں حکمرانی کے نظام کی شفافیت او رعام یا کمزور آدمی کے مسائل کی درست نشاندہی میں مقامی حکومتوں کا نظام اہم ہے۔ہم تسلسل کے ساتھ ملک میں بری حکومت، گورننس کا حکمرانی کے بحران کا رونا روتے ہیں اس کی بھی بڑی وجہ مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑی عدم ترجیحات کا ہیں۔ ہمیں سیاسی محاذ پر ایک بڑی سیاسی جنگ مقامی حکومتوں کے نظام کے حق میں لڑنی ہے۔ یہ لڑائی اگرچہ سیاسی جماعتوں کی سطح پر ہونی چاہیے تھی۔مگر اب یہ بڑی ذمہ داری سول سوسائٹی، میڈیا اور اہل دانش یا تھنک ٹینک کی زیادہ ہے کہ وہ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ کے لئے ایک بڑے پریشر گروپ بنیں۔ تاکہ وہ اس نظام کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ بنائیں۔اگرچہ یہ صوبائی معاملہ ہے مگر وفاق کو ایک بنیادی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا جس کی مدد سے صوبائی حکومتیں اس نظام کی تشکیل کو یقینی بناکر انتخابی نظام کے تسلسل کو قائم رکھ سکیں۔
بالخصوص جب تک وفاق، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے نظام کی مدت ایک جیسی نہیں ہوگی یا آئینی طور پر صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے بعد فوری طور 120دنوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو لازمی قرار دینے کی شرط نہیں ہوگی، یہ نظام تسلسل سے نہیں چل سکے گا۔1973کے دستور کی شق140 اے اور 32 کے تحت مقامی حکومتوں کی سیاسی،انتظامی او رمالی خودمختاری کو یقینی نہیں بنایا جائے گا کچھ بہتر نہیں ہوگا۔سیاسی جماعتوں کی مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں عدم دلچسپی، ترجیحات او رمفادات کے ٹکراؤ کی پالیسی نے عملی طور پر پاکستان میں مقامی سطح کی جمہوریت کے مقدمہ کو کمزور کیا ہے۔