مہنگائی فیکٹر اورعوام کااعتماد
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعہ 22 / اکتوبر / 2021
- 6880
ملک میں مہنگائی کی حالیہ لہر اس حوالے سے عوام پر قہربن کر نازل ہوئی کہ اشیائے خورو نوش مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔
اگرچہ مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر آنے والے شدید عوامی ردعمل کے نتیجے میں حکومت نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ اتنا زیادہ ہے کہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کے باوجود مہنگائی کے اثرات زائل نہیں ہو سکیں گے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں مہنگائی میں کمی کا امکان نہیں کیوں کہ مہنگائی میں حالیہ اضافہ ملکی نہیں بل کہ عالمی مسئلہ ہے۔ اسد عمر کے مطابق کرونا کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں طلب اور رسد کے فرق اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج اضافے سے امریکہ، چین اور بھارت سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ریکارڈ مہنگائی ہے۔
ماہرین آنے والے چند ماہ میں عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں جس کا لازمی نتیجہ عالمی سطح پر اشیائے خورونوش کی مہنگائی کی صورت میں برآمد ہوگا۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے مہنگائی کی اس شدید لہر کے خلاف بھر پور احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ مہنگائی کی حالیہ لہر کے بعد عوام حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے نظر آئے تھے کہ وہ مہنگائی جیسے عوامی اشو پر احتجاج نہیں کرتی۔ اگرچہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ سال مہنگائی سمیت جامع احتجاج کا پروگرامز تشکیل دیا تھا لیکن اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے میں اختلافات سامنے آنے پر پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑ گئی تھی جس کے باعث وقتی طور پر اس تحریک کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ مہنگائی کی حالیہ لہر اور دگرگوں معاشی حالات نے اپوزیشن جماعتوں کوپھر سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا فیکٹر کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن پاکستان میں ہونے والی مہنگائی محض کرونا فیکٹر تک محدود نہیں۔ معیشت کو درست ڈگر پر لانے کے نام پر موجودہ حکومت نے شروع سے ہی سخت فیصلے کیے جس کی قیمت عوام کومہنگائی کی صورت میں اتارنا پڑی۔ سابقہ حکومتیں اشیائے خورونوش سمیت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں سبسڈی دے رہی تھیں لیکن موجودہ حکومت نے آتے ہی بجلی اور گیس سمیت دیگر ضروریات زندگی کی اشیا پر سبسڈیز بتدریج ختم کرنا شروع کردیں جس سے غریب عوام کے ساتھ ساتھ سفید پوش طبقے کی زندگیاں بھی اجیرن ہوتی گئیں۔
کرونا کے ابتدائی دنوں میں عالمی سطح پر لگنے والے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہوئی لیکن حکومت عوام کو اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ ریلیف نہ دے سکی۔ گزشتہ سال حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو تین بار مسلسل کمی کی تو پٹرول مافیاز نے پٹرول پمپوں پر پٹرول نایاب کرتے ہوئے حکومت کو اپنی مرضی کی قیمت مقرر کرنے پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں ملکی تاریخ میں پہلی بارریکارڈ25روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت بڑھی۔ پٹرول مافیاز کے سامنے سرنڈر کرنے سے پہلے حکومت نے آٹا اور چینی مافیاز کے سامنے بھی گھٹنے ٹیکے۔ اس کے بعد ادویات مافیاز نے ادویات میں اپنی مرضی کے اضافے کے لیے جان بچانے والی ادویات کو بازار سے غائب کرا دیا۔ پی ٹی آئی کے تین سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں چار بار اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں بعض دواؤں کی قیمتیں چار سو فیصد تک بڑھ گئیں۔ اس وقت یہ ساری باتیں آپ کے گوش گزار کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے عمران خان صاحب عوام کو مافیاز سے نجات دلانے کے عوے کرتے تھکتے نہیں تھے لیکن اقتدار کی مسند پر فائز ہو کر وہ آٹا، چینی، پٹرول اور ادویات مافیاز کے آگے ایک ایک کر کے سرنڈر کرتے گئے۔ آج وزیراعظم صاحب اپنی تقرریوں میں بار بار مافیاز کے طاقت ور ہونے اور قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا تذکرہ کرتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب! آپ نے اقتدار اس لیے حاصل نہیں کیا تھا کہ آپ عوام کومافیاز کے طاقت ور ہونے اورملک و معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا بتاتے رہیں۔ آپ نے اقتدار کے حصول سے قبل اور حکومت ملنے کے ابتدائی چند ماہ میں متعدد بار تبدیلی کے دعوے کیے تھے۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ کی جماعت ملک میں دو نہیں ایک پاکستان کا خواب حقیقت میں بدلے گی، آپ نے عوام کو ماٖفیاز سے نجات دلانے کا عزم بھی کیا تھا۔ آپ نے بلا امتیاز احتساب کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ آپ نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات اٹھانے کی نویدیں بھی سنائی تھیں۔ آپ اسکولوں سے باہر دو کروڑ بچوں کو اسکولوں میں لانے کے لیے بھی پریشان تھے۔ سب سے بڑھ کر آپ معاشرے میں نچلے طبقے کو اوپر لانے کی باتیں کرتے تھکتے نہیں تھے لیکن عملی طور پر آپ کسی بھی معاملے میں ابھی تک ایسا کچھ نہیں کر پائے جسے حقیقی معنوں میں مثبت تبدیلی کہا جا سکے۔
خاص طور پراس کمر توڑ مہنگائی نے غریبوں کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کی بھی چیخیں نکال دی ہیں۔ لوگوں کی اکثریت شکوہ کناں ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال اوسط ماہانہ خرچ میں 15سے 20ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا ہے جب کے اس کے مقابلے میں آمدنی میں محض چار سے پانچ ہزار کا فرق پڑا ہے۔ وزیراعظم صاحب آپ کو ادراک ہونا چاہیے کہ گوناگوں مہنگائی نے عوامی سطح پر آپ کی حکومت اور جماعت کی پزیرائی میں خاطر خواہ کمی کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کا دفاع کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔ مہنگائی کے معاملے پر آپ کے حمایتیوں اور عقیدت مندوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ خدارا عوام پرگوناگوں مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے کچھ بڑے اقدامات کیجئے ورنہ آپ بچی کچھی عوام کے اعتماد سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
ریاست یاحکومت پر عوام کا اعتماد کس قدر اہمیت رکھتا ہے، اس کے لیے ایک واقعہ گوش گزار کیے دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ چینی دانش ور کنفیوشس سے بادشاہ وقت نے پوچھا، ریاست کو چلانے کے لیے کون سی تین چیزیں از حد ضروری ہیں؟ کنفیوشس نے جواب دیا "روٹی، فوج اور عوام کا اعتماد"۔ بادشاہ نے دریافت کیا کہ اگر ریاست بحالت مجبوری ان میں سے ایک چیز نہ دے تو ان میں سے کس چیز کے بغیز گزارا ہو سکتا ہے؟ کنفیوشس نے جواب دیا، فوج کے بغیر ریاست چل سکتی ہے۔ بادشاہ نے پھر عرض کیا کہ اگرریاست ان میں سے دو چیزیں نہ دے سکے تو؟ کنفیوشس نے کہا، فوج اور روٹی کے بغیر گزارا ہو سکتا ہے لیکن اگر ریاست عوام کا اعتماد کھو دے تو ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔