صوفی ازم اور ہماری سوسائٹی؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 22 / اکتوبر / 2021
- 8620
مذہب بنیادی طور پراخلاقی تربیت اور روحانی بالیدگی کا نام ہے جو انسانوں کو صبر، حوصلہ اور قربانی سکھاتا ہے، دنیاوی مفادات سے اوپر اٹھا کر آپ کو اخلاقی بلندی کے اس مقام پر لے جانا چاہتاہے جس میں نفسا نفسی، لالچ، بغض، حسد، غیبت، بہتان، انتقام، دشمنی اور منافرت جیسی کمینگیاں نہ ہوں۔
عدل سے بھی آگے بڑھ کر مقام احسان تک یعنی آپ کا جو حق بنتا بھی ہے، صلہ رحمی، انسان نوازی اور جذبہ احسان و مروت و اپنایت کے تحت بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے کو عطا کریں اور خود پیچھے ہٹ جائیں۔ سادگی، عاجزی، انکساری، حلیمی اور درویشی کے اوصاف حمیدہ اپنے اندر پیدا کرتے ہوئے انسانیت سے بے لوث محبت کی طرف گامزن ہوں۔ یہی وہ نگاہ فقر ہے جس کے سامنے شان سکندری سرنگوں ہو جاتی ہے۔ یہی معرفت عظمت انسانی ہے، فرشتے جس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں۔ یہی سوزوگداز انسانیت کا جوہر ہے، جس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ’’متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی، مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی‘‘۔
یہ واردات قلبی و ذہنی جب براستہ تصوف و درویشی آگے بڑھتی ہے تو وحدت الوجود کی منزل تک پہنچ جاتی ہے جس میں ہوس و مفاد پرستی کیلئے سوئی کے ناکے جیسی سپیس بھی نہیں بچتی۔ نگہ پیدا کر اے غافل تجلی عین فطرت ہے کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا یہیں پہ ملا اور صوفی کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔ ایک لفظوں کا غلام ، منفعت کا پجاری حاضر و موجود کی وارداتوں میں پھنسا ہوا ظاہر پرست ہے۔ دوسری طرف ان تنگناؤں اور مفاد پرستیوں سے اوپر اٹھ جانے والا سادھو، درویش، بندگان خدا سے محبت کرنے والا وہ فطرت شناس حق پرست ہے جو واعظ سے مخاطب ہوتا ہے ۔ بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ جو اصل ثمرات و مغزیات تھے وہ ہم نے لے لئے ہیں جبکہ ظاہری کچرا یا چھلکے ہم نے ظاہر پرستوں کیلئے چھوڑ دیے ہیں۔
دنیا کے ہر چھوٹے بڑے، جھوٹے سچے مذہب میں حاوی طبقہ لفظی یا نمائشی بندشوں کا اسیر ہوتا ہے۔ جنہیں منوانے کے لئے وہ اپنی بساط سے بھی بڑھ کر ہر حد سے گزر جانے کے لئے تیار وآمادہ رہتا ہے جبکہ ان دو چہروں میں سے ایک وہ ہے جو اعلیٰ ترین بلکہ آئیڈیل انسانی اخلاقات کا منبع ہے جو تہذیب و شائستگی، بے نفسی و قربانی اور انسان نوازی کی تعلیمات دیتا ہے۔ خدا کے عاشق ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا جو انسانی برادری کیلئے اس آفاقی روشنی پر ایمان رکھتے ہیں کہ کعبے میں بتکدے میں ہے یکساں تری ضیاء میں امتیاز دیر و حرم میں پھنسا ہو
جیسا کہ ہمارے عظیم ملامتی صوفی بابا بلھے شاہ جی سرکار نے فرمایا ہے: چاہے مسجد گرا دے، چاہے مندر ڈھا دے، مگر کسی بھی انسان کا دل نہیں توڑنا۔ یعنی انسان، انسانی زندگی اور انسانوں کی خوشی مقدس عبادت گاہوں سے بھی زیادہ مقدس اور پاکیزہ ہے۔ دنیا کے ہر مذہب میں اس انسانی اپروچ کے علمبردار، ان کے سادھو، صوفی، درویش، گیانی، بکھشو، راہب اور انسان نوازی پر ایمان رکھنے والے دانشور ہیں۔ یہ اخلاقی بالیدگی، تصوف و صوفی ازم کے پرچارک ہیں۔ درویش کی ایک موقع پر ڈاکٹر جاوید اقبال سے اس اشو پر بھرپور بحث ہوئی یہ کہ مختلف مذاہب کی خصوصیات کیا ہیں؟ ہمارا مذہب ان سے کیونکر مختلف ہے؟ اس کی گرپ ہنوز کیوں مضبوط ہے۔ لوگ مذہب میں پناہ لینے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ مذہب کی بقا کس چیز سے جڑی ہوئی ہے اور یہ کہ مذہب کا مستقبل کیا ہے؟ اتفاق اس بات پر ہوا کہ بالآخر مذہب صوفی ازم یا تصوف کی صورت باقی رہ جائے گا دیگر اپروچز تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔ وجہ اس کی شعور اور سائنس کی بڑھتی ہوئی طاقت یا اس کا چیلنج ہے۔ رائج الوقت مذہبیت اس کا سامنا کرنے کی استعداد سے بالآخر قاصر رہ جائے گی۔
مذہب کی دوسری اپروچ لفظی غلامی کے دھندے میں ڈوبے ہوئے لوگوں کا چہرہ ہے۔ مولوی، پنڈت، پادری، گرجی، گرنتھی، یا ربی کا شمار ان میں ہوتا ہے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے ادوار عروج میں ہمیشہ سفاکی و شدت سے ہی کام لیتے رہے ہیں۔ اب چونکہ وقت کے ساتھ ان کے دانت ٹوٹ کر گر پڑے ہیں یا کھٹے ہو گئے ہیں، اس لئے اپنے پیروکاران پر ان کی پکڑ یا گرفت بھی ڈھیلی پڑ گئی ہے۔ البتہ ہمارے مذہب کی اپنے ماننے والوں یا عقیدت مندوں پر گرپ ہنوز خاصی مضبوط ہے۔ بالخصوص مخصوص خطوں میں، اس لئے ہمارے ہاں مولوی ، ملا، مولانا یا حضرت صاحب آج بھی اچھی خاصی طاقت کے ساتھ چھائے ہوئے ہیں۔ اور جہاں ان کا بس چلتا ہے اچھی خاصی شدت اورسفاکی سے کام لیتے ہیں۔
مثال کے طور پر مذہب بدلنے کی آزادی کا حق، ایک ایسا یونیورسل فطری، ابتدائے آفرینش سے ازلی و ابدی بنیادی انسانی حق ہے، دنیا کی کوئی بھی مہذب قوم اس سے سر مو انحراف یا انکار کا یارا نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر میں واضح اور کھلے الفاظ میں اس بنیادی انسانی حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ممبر ممالک کا کوئی بھی فرد جونسا چاہے مذہب اختیار کرے یا اسے تبدیل کرے یا سرے سے کسی بھی مذہب کو ماننے سے انکار کر دے۔ ضمیر کی مطابقت میں یہ اس کا بنیادی انسانی حق ہے اور یو این کی ممبر ریاست اس کے اس حق کی حفاظت و پاسداری میں اس کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ عالمی ادارے کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے اس یونیورسل ہیومن رائٹس چارٹر پر دستخط کرنے لازم ہیں۔ اب یہ کتنی بڑی منافقت ہے کہ دنیا کی کچھ ریاستیں عالمی برادری کے سامنے تو اس عہد کی پاسداری کا اعلان کرتی ہیں جبکہ اندرون خانہ اپنے ممالک میں نہ تو وہ اپنے نونہالوں کے سلیبس میں ان اعلیٰ انسانی آدرشوں کی مطابقت کا کوئی اہتمام کرتے ہیں اور نہ اپنے میڈیا کے ذریعے ایسی سرکاری پالیسی کا اعلان کرتی ہیں۔
اس کے برعکس اپنے مذموم و رذیل سیاسی مقاصد کے تحت شہریوں میں مذہبی تفاوت و منافرت کو بے دردی سے پھیلاتی ہیں۔ ضرورت پڑے تو جبر کے ہتھیاروں کو استعمال کرنے سے بھی باز نہیں رہتی ہیں۔ اس وقت ہماری موجودہ پاکستانی کمزور حکومت، مذہب کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے مذہب کا سودا جس بےدردی سے بیچ رہی ہے پاکستانی سوسائٹی کیلئے اس کے اثرات کتنے تباہ کن ہوں گے ان پر بحث اگلے کسی کالم میں۔