تحریک لییک کے ساتھ جھڑپوں میں 3 پولیس اہلکار جاں بحق
- جمعہ 22 / اکتوبر / 2021
- 6880
لاہور میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
دو شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت ایوب اور خالد کے نام سے ہوئی ہے البتہ تیسرے اہلکار کی شناخت نہیں ہو سکی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تین پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ جھڑپوں میں کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پیٹرول بم بھی پھینکے۔
پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم نے لاٹھیوں اور پتھروں کا استعمال کیا۔ اس کے باوجود پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ لاہور پولیس کے ترجمان عارف رانا نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ٹی ایل پی کے حامیوں کی جانب سے ایک پولیس چوکی پر حملے کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
شہر میں کئی مقامات پر پولیس کی مظاہرین سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پرامن رہیں گے لیکن بعد میں تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جاں بحق ہونے الوے پولیس اہلکاروں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی عملدراری کو ہر صو رت یقینی بنایا جائے اور افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب ٹی ایل پی کے میڈیا کوآرڈینیٹر صدام بخاری نے کہا ہے کہ پولیس نے اسلام آباد جانے والی پرامن ریلی پر حملہ کیا۔ کالعدم گروپ کے ترجمان نے کہا کہ کارکنوں نے تاریخ کی بدترین شیلنگ کا سامنا کیا۔ انہین چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا گیا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تحریک لبیک پاکستان کے 500 سے زائد کارکن شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک ہے۔
تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہو گیا ہے اور ٹی ایل پی نے امیر سعد رضوی کی رہائی تک حکومت سے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کل ملک بھر میں موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ٹی ایل پی کے خلاف رات گئے ہنگامی بنیادوں پر ٹارگیٹڈ آپریشن ہوں گے۔ تحریک لبیک کی مرکزی شوریٰ نے کہا ہے کہ جب تک امیر علامہ حافظ سعد حسین رضوی نہیں پہنچیں گے، اس وقت مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے لیے بلا کر پیچھے سے ہمارے کارکناں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا، ہمارے ہزاروں کارکن شدید زخمی ہو چکے ہیں اور کئی کو گولیاں لگی ہیں۔ ٹی ایل پی کی شوریٰ نے کہا کہ ہم ملک اور اس کی ہر چیز کے رکھوالے ہیں، اب سعد حسین رضوی ہی مذاکرات کریں گے۔
خیال رہے کہ کالعدم جماعت نے منگل کے روز عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نکالے گئے جلوس کو 12 اپریل سے گرفتار اپنے قائد حافظ سعد رضوی کی رہائی کے لیے احتجاجی دھرنے کی شکل دے دی تھی۔
تین روز تک لاہور میں مسجد رحمت اللعالمین کے سامنے دھرنا دینے کے بعد کالعدم تنظیم نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ اگر مظاہرین کو اسلام آباد جانے سے روکا گیا تو اس کے لیے بھی منصوبہ تیار ہے۔
جمعہ کی سہ پہر 4 بجے کے بعد وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کالعدم جماعت سے مذاکرات کے لیے کابینہ کے دو سینئر اراکین پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ حضور اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ملک میں امن و آشتی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان وزیر اعظم عمران خان سے لاہور میں ملاقات کے بعد کیا۔ احتجاج کے پیش نظر حکومت نے راولپنڈی اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی تھی اور میٹرو اسٹیشنز سمیت مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
کالعدم تنظیم تحریک لیبک پاکستان کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد کی جانب احتجاجی لانگ مارچ کے اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے جڑواں شہروں میں متعدد اہم شاہراہیں کو رکاوٹیں لگا کر بلاک کردیا گیا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس نے گزشتہ تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران کالعدم ٹی ایل پی کے 100 سے زائد کارکنان کو گرفتار کیا۔ احتجاج کے پیشِ نظر وفاقی پولیس کے اہلکاروں اور جوانوں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور چھٹی پر گئے ہوئے اہلکاروں کو ڈیوٹی پر واپس پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ واٹر کینن اور بکتر بندگاڑیاں بھی فیض آباد پہنچا دی گئی ہیں۔ آنسو گیس کی شیلنگ کے سامان سے لیس پولیس کے دستے بھی فیض آباد میں موجود ہیں اور ہدایت کی گئی ہے کہ مظاہرین کو کسی صورت فیض آباد نہ پہنچنے دیا جائے۔
راولپنڈی میں سڑکیں بلاک اور میٹروبس سروس معطل ہونے کے باعث دفاتر جانے والے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ نے شہریوں کو اسلام آباد کے غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گزشتہ برس میں فرانس میں سرکاری سطح پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ کے بعد معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ تاہم مطالبات پورے نہ ہونے پر تحریک لبیک نے 16 فروری کو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
12 اپریل کو سعد رضوی کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے لاہور سے گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتاری پر احتجاج میں شدت آنے پر حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی عدائد کردی تھی۔
سعد حسین رضوی کو ابتدائی طور پر 3 ماہ تک حراست میں رکھا گیا اور پھر 10 جولائی کو دوبارہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک وفاقی جائزہ بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں 23 اکتوبر کو ان کے خلاف حکومتی ریفرنس لایا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تاہم پنجاب حکومت کی اپیل پر سپریم کورٹ نے یہ معاملہ ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔