لاہور، اسلام آباد میں ٹی ایل پی کا احتجاج جاری، کئی سڑکیں بند

  • ہفتہ 23 / اکتوبر / 2021
  • 4970

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کی وجہ سے لاہور اور اسلام آباد میں کئی سڑکیں اب بھی بند ہیں۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کالا شاہ کاکو انٹرچینج پہنچ گئے ہیں اور وہ اسلام آباد پہنچنے کے لیے گرینڈ ٹرنک روڈ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

دریں اثنا وزیر داخلہ شیخ رشید جو ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کا مقابلہ دیکھنے کے لیے دبئی میں تھے، وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ہفتے کو وطن واپس پہنچے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز احتجاج کے دوران 3 پولیس اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) نے کشیدہ صورتحال کے باعث ٹریفک کے لیے بند سڑکوں کی فہرست جاری کی ہے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک الرٹ جاری کیا جس میں رہائشیوں کو آگاہ کیا گیا کہ ایکسپریس چوک ٹریفک کے لیے بند ہے۔ مری روڈ کو دونوں جانب سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ اسلام آباد سے مری روڈ کی طرف جانے والے مسافروں کے لیے ٹریفک کو اسلام آباد ہائی وے کی طرف موڑا جارہا ہے۔

کالعدم تنظیم کے دھرنوں کا تازہ سلسلہ منگل سے شروع ہوا تاکہ پنجاب حکومت پر اس کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جائے جو اس کے مرحوم بانی خادم رضوی کے بیٹے ہیں۔ سعد رضوی کو پنجاب حکومت نے 12 اپریل کو ’پبلک آرڈر کی بحالی (ایم پی او)‘ کے تحت حراست میں لیا تھا۔

گزشتہ روز سینٹرل پولیس آفس نے چار علاقائی پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کیں کہ اسلام آباد کی طرف جانے والی جی ٹی روڈ پر سیکورٹی بڑھا دی جائے تاکہ کسی بھی قیمت پر ٹی ایل پی کے جلوس کو روکا جا سکے جس کے بعد راولپنڈی پولیس نے سڑکوں پر کنٹینر لگا کر تقریباً پورے شہر کو بند کر دیا۔

جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی قیادت نے سعد رضوی کی رہائی تک حکومتی کمیٹی سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب وہی مذاکرات کی قیادت کریں گے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ ایک طرف حکام  مذاکرات  کر رہے ہیں اور دوسری طرف ’ان کے ہزاروں کارکنوں‘ کو گولیاں ماری گئیں اور بہت سے زخمی ہوئے۔

دریں اثنا ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو تمام ٹی ایل پی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔ اگر کالعدم تنظیم نے اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ اب تک پولیس نے اسلام آباد میں 50 رہنماؤں، کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔

مختلف مدارس کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹی ایل پی کے احتجاج میں شامل ہونے سے گریز کریں۔ تاہم لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے ہی ٹی ایل پی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امکان ہے کہ مولانا عبدالعزیز طلبہ اور پیروکاروں کے ساتھ آبپارہ یا لال مسجد کے ارد گرد احتجاج کریں گے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عزیز نے کہا کہ وہ ٹی ایل پی کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں اور اپنے حامیوں کو فیض آباد دھرنے میں حصہ لینے کی ترغیب دیں گے۔