افغانستان میں ڈرون حملے کیلئے پاکستانی فضائی حدود سے متعلق امریکا سے معاہدہ نہیں ہوا: دفترخارجہ
- ہفتہ 23 / اکتوبر / 2021
- 3760
دفتر خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این کی اس رپورٹ مسترد کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں ڈرون حملے سے متعلق معاہدہ ہونے والا ہے۔ اس طرح امریکہ افغانستان میں عسکری کارروائی کے کئے پاکستانی فضائی حدود استعمال کر سکے گا۔
دفتر خارجہ نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے مابین ایسا ’کوئی معاہدہ نہیں‘ ہوا ہے۔ سی سی این نے رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’امریکی کانگریس کو دی جانے والی حساس بریفنگ سے متعلق واقف تین ذرائع نے بتایا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا تھا کہ واشنگٹن اور پاکستان کے مابین جلد معاہدہ ہونے والا ہے جس کے تحت افغانستان میں ملٹری آپریشن کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال ہوسکے گی‘۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے بھی مذکورہ معاہدے پر دستخط ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ اس کے بدلے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق آپریشن اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں امریکی مدد حاصل ہوسکے۔ سی این این کی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ معاہدے کی شرائط پر تاحال بات چیت جاری ہے اور اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے بعد دفترخارجہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے افغانستان میں امریکی ڈرون حملے کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے متعلق معاہدے پر کہا کہ ’ایسا کوئی معاہدہ زیر غور نہیں‘ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین انسداد دہشت گردی اور خطے میں سیکیورٹی سے متعلق ’دوطرفہ تعلقات کی طویل تاریخ‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک روایتی انداز میں دیگر امور پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے جون میں ایک انٹرویو میں واضح طور سے کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کے لیے اپنے کسی بھی اڈے اور اپنی سرزمین امریکا کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایچ بی او پر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ 'ہرگز نہیں، کسی بھی صورت ہم اپنے اڈوں کے استعمال کی اور نہ ہی پاکستانی حدود سے افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کی اجازت دیں گے'۔
علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کو فوجی اڈے دینے کے حوالے سے رپورٹس مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ حکومت، امریکا کو کسی صورت فوجی اڈے نہیں دے گی، نہ ہی اسے پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی جائے گی۔
ان کا یہ بیان امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ کے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا تھا کہ وہ افغانستان کے پڑوس میں متعدد وسطی ایشیائی ممالک سے اپنے فوجی تعینات کرنے کے لیے بات کر رہی ہے تاکہ افغان سرزمین دوبارہ القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کا گڑھ نہ بن جائے۔