سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے امریکا بھارت کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے: معاون خصوصی

  • اتوار 24 / اکتوبر / 2021
  • 3720

سی پیک اتھارٹی کے سربراہ خالد منصور نے امریکہ پر اس منصوبے کے خلاف سازش کا الزام لگایا ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں سی پیک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور نے امریکا پر پاکستان کی معاشی لائف لائن کے خلاف بھارت کے ساتھ اشتراک کرنے کا الزام عائد کیا۔ خالد منصور نے کہا کہ ابھرتی ہوئی جیو اسٹریٹجک صورتحال کے تناظر میں ایک چیز واضح ہے کہ بھارت کی حمایت میں امریکا سی پیک کے خلاف ہے، یہ اسے کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ یہاں ہمیں پوزیشن لینی پڑے گی۔

اسلام آباد، چین کی بیرون ملک ترقیاتی فنانسنگ کا ساتواں سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔ اس وقت سی پیک کے تحت 27 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے 71 منصوبے جاری ہیں۔ بہت سے مغربی تھنک ٹینکس اور تبصرہ نگاروں نے سی پیک کو ایک معاشی جال قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں عوامی قرضوں کی سطح پہلے ہی بہت بڑھ گئی ہے اور ملکی معیشت میں غیر متناسب طور پر چینی اثر و رسوخ زیادہ ہوا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) سے پاکستان کو نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بی آر آئی عالمی سطح کا ایک انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ پلان ہے جس کے تحت چینی حکومت تقریباً 70 ممالک میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی راستہ نہیں ہے کہ پاکستان اس کے کسی بھی فائدے کو چھوڑ دے، اس نے ماضی میں (مغربی) اتحاد میں ایک سے زائد مرتبہ اپنی انگلیاں جلا رکھی ہیں۔ خطے میں چین کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ مغربی طاقتیں سی پیک کو چین کے سیاسی عزائم کی علامت سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کو امریکا اور یورپ دونوں مشکوک نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ سی پیک کو چین کے سیاسی، اسٹریٹجک اور کاروباری اثر و رسوخ بڑھانے کے اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم چین اس خدشے پر کافی حد تک قابو پا چکا ہے۔

خالد منصور کا کہنا تھا کہ امریکا اب خطے سے انخلا کے معاشی اور سیاسی نتائج کا جائزہ لے رہا ہے۔ میری امریکی سفارتخانے کے افراد سے بہت تفصیلی بات چیت ہوئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ سی پیک ان کے لیے بھی دستیاب ہے، انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ کسی قسم کی شمولیت کو فروغ دینا چاہیں گے اور دیکھیں گے کہ یہ دونوں ممالک کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد سی پیک کو افغانستان تک بڑھانے کا خواہاں ہے اور اس نے طالبان کی زیر قیادت افغانستان کے اربوں ڈالر کی اقتصادی راہداری میں شمولیت کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے۔