ترک صدر نے امریکہ سمیت 10 ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ قرار دے دیا
- اتوار 24 / اکتوبر / 2021
- 6590
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکہ سمیت دس ممالک کے سفرا کو پرسونا نان گراٹا (ناپسندیدہ شخص) قرار دینے کا حکم دیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ہفتے کو شمال مغربی ترکی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزارتِ خارجہ کو حکم دیا ہے کہ سماجی و فلاحی کارکن عثمان کوالہ کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے مغربی ممالک کے 10 سفرا کو ''ناپسندیدہ شخص'' قرار دیا جائے۔
عثمان کوالہ گزشتہ چار برس سے قید میں ہیں۔ ان پر 2013 میں ملک گیر مظاہروں کی مالی مدد کرنے اور ترکی میں 2016 کی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ کوالہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ 18 اکتوبر کو کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے سفرا نے ایک مشترکہ بیان میں کوالہ کے کیس کے فوری اور درست حل اور ''فوری رہائی'' کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں ترکی کی وزارتِ خارجہ نے ان سفرا کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے اس بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
صدر اردوان نے کہا کہ میں نے وزیرِ خارجہ کو ضروری حکم دیا ہے کہ ہمیں فوری طور پر ان دس سفرا کو ایک ہی وقت میں ناپسندیدہ اشخاص قرار دینا چاہیے۔ آپ اسے فوری طور پر حل کریں گے۔' انہوں نے ہجوم سے مخاطب ہوتے ہوئے پر جوش انداز میں کہا کہ انہیں ترکی کو جاننا اور سمجھنا ہوگا۔ اگر وہ ترکی کو نہیں جانیں اور نہیں سمجھیں گے تو وہ یہاں سے چلے جائیں۔
ترک صدر کے اس بیان پر امریکہ، جرمنی اور فرانس کے سفارت خانوں، وائٹ ہاؤس اور امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل نہیں آیا۔
عثمان کوالہ کو گزشتہ برس 2013 کے مظاہروں کے الزامات میں بری کر دیا گیا تھا۔ البتہ اس سال یہ حکم معطل کر دیا گیا اور ان الزامات کو فوجی بغاوت کے کیس سے جوڑ دیا گیا۔ حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ ان کا کیس ایردوان سے اختلافِ رائے پر کریک ڈاؤن کی علامت ہے۔