ٹی ایل پی پر عائد پابندی ختم ہوسکتی ہے: شیخ رشید

  • سوموار 25 / اکتوبر / 2021
  • 5340

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کالعدم تنظیم تحریک لیبک پاکستان کے وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو بہت مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایل پی کالعدم تنظیم ہے اور اس حوالے سے پارٹی کے رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ معاملہ بھی مکمل طورپر ختم ہوجائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات متوقع ہے اور وفاقی کابینہ میں فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق معاملہ زیر بحث آئے گا۔ میری اطلاعات کے مطابق ٹی ایل پی نے ایک شاہراہ کھول دی ہے جو خوش آئند بات ہے۔ ہم نے ان سے وعدے کیے ہیں ان پر پورا دیں گے، وزیر اعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب سے قبل پرنسپل سیکریٹری کو مدارس کے اکاؤنٹس کو بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ مدارس کا معلوم ہو کہ ان کے پاس فنڈز کتنے اور کہاں سے آرہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو دیگر عہدیداران کے مقابلے میں بہت زیادہ تعاون کرنے والا شخص پایا ہے۔ ٹی ایل پی کالعدم تنظیم ہے لیکن اس حوالے سے بھی پارٹی کے رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے، میری خواہش ہے کہ یہ معاملہ بھی مکمل طورپر ختم ہوجائے۔

انہوں نے بتایا کہ سعد رضوی سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں آگاہ کیا کہ فرانس یورپی ممالک کی نمائندگی کررہا ہے، پاکستان کے خلاف بھارت کی سازشیں جاری ہیں، امریکا میں پاکستان کے خلاف پابندی عائد کرنے کا بل پیش کیا گیا اور معاشی بحران موجود ہے۔ خیال رہے کہ ٹی ایل پی نے فرانسیسی سفارتکار کو بے دخل کرنے سے متعلق 6 ماہ قبل ہونے والے معاہدے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے اور سعد رضوی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

حکومت کی جانب سے باقاعدہ مذاکراتی ٹیم کے اعلان سے قبل تک کئی شہروں میں ٹی ایل پی اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئی جس میں پولیس اہلکاروں سمیت ٹی ایل پی کے کارکن بھی جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔