وزیرِاعلیٰ بلوچستان کے استعفیٰ کے بعد نئے قائدِ ایوان کے لیے جوڑ توڑ

  • سوموار 25 / اکتوبر / 2021
  • 4650

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ جام کمال خان اتوار کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس کے بعد اب نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

صوبے میں حکمراں جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے ذرائع کے مطابق پارٹی کی اکثریت نے نئے قائدِ ایوان کے لیے اسپیکر عبد القدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کر لیا ہے۔ جب کہ اسپیکر اسمبلی کے لیے رکن صوبائی اسمبلی جان جمالی کا نام سامنے آیا ہے۔

وزیرِاعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اتوار کی شام کو صوبے کے گورنر ظہور آغا کو اپنا استعفیٰ ارسال کیا تھا۔ جام کمال نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ وہ 24 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ کے منصب سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

وزیرِاعلیٰ کے مستعفی ہونے کے بعد صوبائی حکومت کی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمۂ خزانہ نے تمام ترقیاتی فنڈز کے لیے ادائیگی پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

دوسری جانب پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ تمام ساتھی ثابت قدم رہے۔ جمہوری عمل میں ساتھ دینے پران کا شکر گزار ہوں۔ بعد میں اسپیکر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کو عوام کی خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھانا ہو گا۔

اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی سردار عبد الرحمٰن کھیتران نے تحریکِ عدم اعتماد کی قرارداد واپس لینے کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ جام کمال خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اس لیے میں تحریکِ عدم اعتماد واپس لیتا ہوں۔

خیال رہے کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔ 65 ارکان پر مشتمل اس ایوان میں تحریک پر رائے شماری کرانے کے حق میں 33 اراکین کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے حمایت کی تھی۔ عدمِ اعتماد کی تحریک کے سلسلے میں رائے شماری 25 اکتوبر کو صوبائی اسمبلی میں ہونا تھی۔ تاہم وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی اجلاس سے قبل ہی رضاکارانہ طور پر استعفیٰ پیش کر دیا۔

اتوار کو وزیرِ اعلیٰ کے استعفیٰ کے بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے گھر بلوچستان عوامی پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی پہنچے۔