سعودی عرب کے دفاع کی ضرورت پڑی تو پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا: وزیراعظم
- سوموار 25 / اکتوبر / 2021
- 6330
وزیراعظم عمران خان نے سعودی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو جب بھی خطرہ ہوگا تو حفاظت کے لیے پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا۔
ریاض میں سعودی انوسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دیگر تمام تعلقات سے بالاتر ہیں کیونکہ یہ عوام کے عوام سے تعلقات ہیں، پاکستان میں جو بھی حکومت آتی ہے اس کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات ہوتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ 2 مقدس مساجد ہیں اور ہم سعودی عرب سے بندھے ہوئے، دوسری وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، جس کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ انسان اس کو یاد نہیں رکھتا جس نے اچھے وقت میں ساتھ دیا ہو لیکن مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کو بھلایا نہیں جاتا۔ سعودی عرب کو جب کبھی سلامتی کا خطرہ ہوگا تو باقی دنیا کے ساتھ کیا ہوتا ہے میں نہیں جانتا لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی حفاظت کے لیے پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میں 30 برس سے سعودی عرب آرہا ہوں اور میں نے ولی عہد کی صورت میں بہترین قیادت کے تحت تبدیلی دیکھی ہے۔ وہ سعودی عرب کے مستقبل کی تبدیلی کا عزم رکھتے ہیں اور پاکستان بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ ہمارے وزیر خزانہ نے نشان دہی کی ہے کہ 60 کی دہائی میں پاکستان ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا، پاکستان وہ ملک تھا جہاں تیز ترین صنعت کاری ہورہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ادارے تھے جو ایشیا کے تمام اداروں سے مضبوط تھے، ہماری قومی ایئرلائن پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی اور اس نے مزید 5،6 ایئر لائنز بنائیں۔ شرح نمو درست سمت جارہی تھی لیکن بدقسمتی سے جیسے ملکوں کی تاریخ میں ہوتا ہے راستہ تبدیل ہوجاتا ہے تو ہم بھی اپنا راستہ کھو بیٹھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں اکثریت 30 سال سے کم عمر افراد کی ہے، اس کا مطلب ہے کہ ترقی کے شان دار مواقع ہیں، ترقی کا اہم ترین عنصر نوجوان ہیں۔ پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت ہے، دنیا کے دو بڑی معیشتیں ہمارے پڑوس میں ہیں۔ ہمارے پاس افغانستان سے ہوتے ہوئے پورا وسطی ایشیا ہے۔
چین کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں لیکن ہمیں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شان دار فتح کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ گزشتہ شب کرکٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کی جانب سے پچھاڑنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے حوالے سے بات کرنے کا صحیح وقت نہیں ہے۔
ہمارے درمیان صرف ایک مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر۔ ہم دو تہذیب یافتہ ہمسایے اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں۔ یہ سب انسانی حقوق اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد میں 70 یا 72 سال قبل دی گئی ہے۔ اگر ان کو حقوق دیے گئے تو ہمارے درمیان کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، دونوں ممالک اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں لیکن اس کے فائدے تصور کریں، بھارت کو پاکستان سے وسطی ایشیا تک رسائی ہوگی اور پھر پاکستان کو ان دو بڑی مارکیٹس تک رسائی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ہیں اور تبدیل ہوتے ہیں، جس طرح کاروباری برادری جانتی ہے کہ کامیاب ترین کاروباری افراد مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں اور رسک لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر آپ مستقبل کی طرف دیکھیں گے تو پاکستان اس اسٹریٹجک سطح پر ہے جہاں ہر طرف دروازے کھلتے ہیں اور چاہتے ہیں ہمارے سعودی بھائی پاکستان کی اس پوزیشن سے فائدہ اٹھائیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات مختلف سطح پر جائیں، ایک ایسی سطح جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ فوائد بھی سعودی عرب اور پاکستان کے لیے مختلف ہوں گے، اسی لیے اگر ہم مل کر کام کرتے ہیں تو دونوں ممالک کے لیے فائدہ ہوگا۔