امریکی سینیٹر کا صدر بائیڈن کو عمران خان سے رابطہ کرنے کا مشورہ
- منگل 26 / اکتوبر / 2021
- 6040
امریکی سینیٹر باب مینڈیز نے امریکی صدر سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو فون کریں اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کریں۔
امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے چیئرمین باب مینڈیز نے بتایا کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن سے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن پر زور دیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات دوبارہ استوار کی کوشش کے لئے وزیراعظم عمران خان سے بات کریں۔
امریکی سیکریٹری اسٹیٹ سے کی گئی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ میرے خیال میں اس طرح کی بات چیت کرنا ہمارے لیے اچھا ہوگا۔ ایسی صورت میں کہ جب کوئی معاہدہ ہوگا، ہم اس پر تعلقات تعمیر کریں گے اور جب کوئی اختلاف ہوگا ہم اس پر بات کریں گے کہ اس اختلاف کو کس طرح دور کرسکیں۔
امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی لمحہ ہے جس میں ایک ایسا رشتہ ہے جو دوبارہ پہلے جیسا بنایا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کرنے سے بظاہر انکار یا گریز کو سفارتی توہین کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یہ بظاہر دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا حوالہ بن گیا ہے جس میں امریکی قانون سازوں نے بھی تنقید کی ہے۔
اگست میں فنانشنل ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا تھا کہ اگر جو بائیڈن ملکی کی قیادت کو نظر انداز کرتے رہے تو پاکستان کے پاس دیگر آپشن بھی ہیں۔ امریکا کے صدر نے اتنے اہم ملک کے وزیر اعظم سے بات نہیں کی۔
وزیراعظم نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ فون کال کا انتظار نہیں کررہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سنتا رہتا ہوں کہ صدر جوبائیڈن نے مجھے کال نہیں کی، یہ ان کا معاملہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی فون کال کا انتظار کررہا ہوں۔
بعدازاں ستمبر میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ امریکی صدر خاصے مصروف ہیں کہ انہیں کال کریں اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں۔
علاوہ ازیں 11 اکتوبر کو مڈل ایسٹ آئی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے دوبارہ واضح کیا تھا کہ انہوں نے اب تک صدر جو بائیڈن سے بات نہیں کی، جس پر انٹرویو لینے والے نے اس حیران کن قرار دیا تھا۔