ترک صدر 10 ممالک کے سفرا کو بےدخل کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے
- منگل 26 / اکتوبر / 2021
- 4070
ترک صدر رجب طیب اردوان مشترکہ بیان میں جیل میں موجود سماجی رہنما کی حمایت کے بعد 10 مغربی سفرا کو ملک سے بے دخل کرنے کی دھمکی واپس لے لی ہے جس کے بعد یورپ اور امریکہ کے ساتھ بحران کی کیفیت میں کمی آئی ہے۔
امریکا سمیت کئی متعلقہ ممالک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے کنونشن کا احترام کرتے ہیں جس کے تحت سفارتکار، میزبان ملک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد ترک صدر اردوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمارے ملک کے خلاف بہتان طرازی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور آئیندہ مزید محتاط رہیں گے۔
رجب طیب اردوان کے دھمکی سے پیچھے ہٹنے کے بعد ترک لیرا تاریخ کی کم ترین سطح سے واپس اوپر آگیا اور ترکی اور مغرب کے تعلقات واپس بہتری کی جانب آئے ہیں جو ترک صدر کی دھمکی کے بعد ان کے 19 سالہ اقتدار کے سنگین ترین سفارتی بحران کا باعث بن رہے تھے۔
مغربی ممالک اور ترکی کے درمیان جزوی تعطل گزشتہ ہفتے امریکا، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا تھا کہ گرفتار سماجی کارکن عثمان کافالا کے کیس کو جلد از جلد حل کیا جائے۔
64 سالہ سماجی رہنما اور تاجر عثمان کافالا کو بغیر جرم ثابت ہوئے چار سال قبل جیل بھیج دیا گیا تھا۔ عثمان کافالا کے خلاف کارروائی کو صدر اردوان کی عدم برداشت کی پالیسی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ترک صدر نے بحران سے متعلق اجلاس کی صدارت کے بعد کہا تھا کہ بطور سربراہ مملکت ان کی ذمہ داری ہے کہ ترکی کے خود مختار حقوق کی بیرونی خلاف ورزیوں کا جواب دیں۔ رجب طیب اردوان نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا تھا کہ ’ترک عدلیہ کسی سے احکامات لیتی ہے نہ ہی وہ کسی کی کمانڈ میں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہماری یہ ہرگز خواہش نہیں ہے کہ بحران پیدا کیا جائے لیکن ہم اپنے حقوق، قوانین، اعزاز، مفاد اور حق خود مختاری کی حفاظت کریں گے۔