وفاقی شرعی عدالت نے ’سوارہ‘ کو غیر اسلامی قرار دے دیا

  • منگل 26 / اکتوبر / 2021
  • 6060

وفاقی شرعی عدالت  نے سوارہ یا ونی کی رسم کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں 3 رکنی بینج نے ریمارکس دیے کہ کم عمر لڑکی دے کر تنازعات حل کرنے کی روایت اسلامی احکامات کے خلاف ہے۔

سوارہ سے متعلق سکینہ بی بی کی درخواست پر سماعت کے دوران بنچ نے قرار دیا کہ علما اس بات پر متفق ہیں کہ ونی یا سوارہ، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

خیال رہے کہ سوارہ وہ رسم ہے جس میں تنازعات ختم کرنے کے لیے تلافی کے طور پر لڑکیاں اور اکثر کم سن بچیوں کی شادی کردی جاتی ہے یا انہیں متاثرہ خاندان کو بطور غلام دے دیا جاتا ہے۔ ایسا اکثر قتل کے کیس میں کیا جاتا ہے۔ یہ رضامندی یا کم عمری میں شادی کی قسم ہے، سزا کا یہ فیصلہ قبائلی عمائدین کی کونسل کی جانب سے کیا جاتا ہے جسے جرگہ کہتے ہیں۔

درخواست گزار نے ونی کے رواج کو متعدد وجوہات کی بنا پر چیلنج کیا تھا۔ درخواست کے مطابق تنازعات کے حل کے لیے جرگوں یا پنچایت میں دی جانے والی یہ سزائیں، خواتین یا کمسن لڑکیوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ جرگہ یا پنچایت ’بدلِ صلح‘ کے تصور کو غلط طور پر سمجھتے ہیں اور یہاں مسئلے کو حل کرنے کے لیے تلافی کے طور پر کم عمر لڑکیاں متاثرہ خاندان کے حوالے کردی جاتی ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اس رواج کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

وفاقی شرعی عدالت میں معاون ڈاکٹر محمد اسلم خاکی کا کہنا تھا کہ ونی، خواتین کے کم و بیش چار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ملزم خاندان کی جانب سے دی جانے والی لڑکی کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا جاتا ہے جبکہ متعدد کیسز میں انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان لڑکیوں کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کسی بھی شخص سے کردی جاتی ہے۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مہر کی حقدار نہیں ہوتیں اور چوتھا یہ ہے کہ وہ شادی کو ختم کرنے کے لیے خلع کی قانونی درخواست دائر نہیں کر سکتیں۔

محمد اسلم خاکی کا مزید کہنا تھا کہ قتل کے کیس کو حل کرنے کا قانونی طریقہ دِیت یا خون بہا کی رقم ہے جو اسلام میں بھی قابل قبول ہے۔ تاہم روایتی نظام میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے ونی یا سوارہ کو جائز سمجھا جاتا ہے لیکن علما اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔