محروم اور کمزور طبقہ کی سیاست

حکومت کا بنیادی چیلنج حزب اختلاف کی سیاست کے مقابلے میں مہنگائی، بے روزگاری،معاشی بدحالی سمیت معیشت کے لیے سازگار سطح کا ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ کیونکہ جب ملکی معیشت آگے بڑھ رہی ہو او رلوگوں کے پاس کمانے کے لیے معاشی مواقعوں میں انصاف کا عمل نظر آئے تو لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

لیکن جب معیشت آگے نہ بڑھے اور لوگوں میں معاشی عدم تحفظ کی کیفیت ہوتو ایسے میں مہنگائی واقعی ایک بڑا چیلنج او رمشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔اصل میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ریاستی، حکومتی یا ادارہ جاتی سطح کی پالیسی میں عام یا کمزور آدمی کی ترجیحات ہمیشہ سے کمزور رہی ہیں۔ عام آدمی اہل سیاست کے لیے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور حکومت ہو یا حزب اختلاف ان کے سامنے عام آدمی سے زیادہ دیگر مفادات کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔

حالیہ دنوں میں مہنگائی کا مسئلہ بڑ ا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس مہنگائی کے مسئلہ نے حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم یا دیگر جماعتوں بشمول پیپلزپارٹی کے مردہ جسم میں نئی سیاسی جان ڈالی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں مہنگائی کے مسئلہ کو بنیاد بنا کر حکومت کے خلاف میدان میں کود پڑی ہیں۔اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت مہنگائی کے  مسئلہ سے کیسے نمٹتی ہے اور حزب اختلاف کس حد تک اس مہنگائی کے مسئلہ کو بنیاد بنا کر حکومت کو   دباؤ میں لاسکتی ہے۔اسی مسئلہ کو بنیاد بنا کر حکومت بھی ہمیں کافی متحر ک نظر آتی ہے یا اس نے عوامی ردعمل کا مقابلہ کرنے کے لیے جوابی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ حکومت نے فوری طور پر تین سطح کی حکمت عملی کو پیش کیا ہے۔ اول کم آمدنی والوں کے لیے پٹرول، ڈیزل، یوٹیلیٹی سٹورز پر روزمرہ کی اشیائے خورونوش میں خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوئم یہ رعایت ٹارگٹڈسبسڈی کی بنیاد پر دی جائے گی یعنی یہ رعایت ان ہی لوگوں کو حاصل ہوگی جن کی آمدنی بھی کم ہوگی او روہ خط غربت یا غربت کی تعریف کے زمرے میں آتے ہیں۔ سوئم مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں سمیت اضلاع کی انتظامی اور سیاسی قیادت کو مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کرنے، نگرانی کے نظام کو شفاف بنانے اور جوابدہی کو یقینی بنانا شامل ہے۔چہار م حکومتی سطح پر طے کیا گیا کہ مہنگائی کے مسئلہ پر حزب اختلاف سے نمٹنے کے لیے جوابی ردعمل کی سیاسی حکمت عملی بھی طے کی گئی کہ عوامی سطح پر مہنگائی کی اصل وجوہات یا حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

آج دنیا میں جب بھی عام آدمی یا کمزور طبقہ کو سبسڈی دینے کی بات کی جاتی ہے تو ترقیاتی او رمعاشی امور کے ماہرین اس نقطہ پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں کہ یہ سبسڈی کمزور یا غریب طبقہ تک ہی محدود دہونی چاہیے۔ یعنی سبسڈی کی بنیاد طبقاتی بنیاد پر ہونی چاہیے او رجو لوگ اس سبسڈی کے زیادہ حق دار ہیں یہ ریلیف ان ہی تک محدود ہونا چاہیے۔ حکومتی سطح پر ایسا کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ عام آدمی کو اس سیاسی نظام یا حکومت میں طاقت ور طبقات کے مقابلہ میں زیاد ہ ریلیف ملے او روہ اپنی معاشی آسودگی کو کم سے کم کرسکے۔کیونکہ عمومی طور پر حکومتی سبسڈی میں وہ طبقہ بھی مراعات لیتا ہے جو اس کا اصل حق دار نہیں ہوتا۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب حکومت کے بقول پٹرول کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس کو مدنظر رکھ کر موٹر سایکل، رکشہ یا عوامی سواری کو ہی سستا پٹرول دیا جائے گا، دیکھنا ہوگا کہ اس پر عملدرآمد کب ہوگا اورکیسے اسے ممکن بنایاجائے گا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے سیاسی، ریاستی، حکومتی او رادارہ جاتی نظام میں ایسے لوگ زیادہ بالادست یا فیصلہ سازی کا حصہ ہیں جو عام آدمی کے مقابلے میں اپنے سیاسی او رمالی مفاد کی جنگ لڑتے ہیں۔ اسی جنگ کو بنیاد بنا کر یہ طاقت ور طبقہ عام آدمی کا زیادہ سے زیادہ معاشی استحصال اور خود کو مالی طور پر زیادہ منافع کے قابل بناتا ہے۔ہماری حکمرانی کا مسئلہ عام آدمی یا حکمرانی کے بنیادی اصول کے پیش نظر لوگوں کا سیاسی، سماجی، قانونی، معاشی تحفظ کا نہ ہونا اور حکومتی و ادارہ جاتی سطح پر ریگولیٹری اتھارٹی کی عدم فعالیت یا عدم شفافیت کا نظام ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنے ہی فیصلوں کو یا تو نافذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا اس میں ایک بڑے مافیا کی موجودگی یا اس کی بالادستی کا شکار ہے۔سب سے بڑا ظلم عام آدمی یا کمزور طبقہ پر ریگولیٹری اتھارٹیاں کررہی ہیں او ران کا عوامی مفادات کے معاملات میں کنٹرو ل کا نہ ہونا یا کرپشن و بدعنوانی سے جڑی سیاست ہے۔ریگولیٹری اتھارٹیوں کا بنیادی مقصد حکومت کی طے شدہ قیمتوں کی کڑی نگرانی کرنا، منافع خوری یا ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف عملی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم سے لے کر صحت تک یا ٹرانسپورٹ سے لے کر ضروری بنیادی اشیا تک نجی شعبہ کی من مانیوں سے لوگوں کا بدترین استحصال کیا ہے او رکررہا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ مختلف معاملات میں قیمتوں کا تعین حکومت کے مقابلے میں نجی شعبہ کو دے دیا گیا ہے بالخصوص تعلیم اور صحت کا نظام بدترین مثال ہے جہاں لوٹ مار کرنے والوں پر حکومتی سطح کا کنٹرول بہت زیادہ کمزور نظر آتا ہے۔

جب ملک میں اچھی حکمرانی، مربوط اور شفاف یا عام آدمی تک مکمل رسائی کا انتظامی ڈھانچہ نہیں بنے گا جو عملی طو رپر مضبوط او رخود مختار مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑا ہے ہم عام آدمی کو کوئی بڑا ریلیف نہیں دیں سکیں گے۔ریگولیٹری اتھارٹیوں کی شفافیت 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی یا مقامی حکومتوں کی بڑی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ البتہ وفاقی سطح پر پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی شفافیت کو جانچنے کے لیے وفاقی سطح پر موجود ریگولیٹری اتھارٹیوں کی ذمہ داری ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی نظام میں صوبائی حکومتیں کوئی بھی خود سے براہ راست ذمہ داری یا خود کو جوابدہ بنانے کے لیے تیار نہیں اور ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال کر خود کو بچاتا ہے اور وفاق بھی خود کو بہت سے معاملات میں بے بس سمجھتا ہے۔

 اس وقت حکومت کو محض پٹرول، ڈیزل، یوٹیلیٹی سٹورز تک لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی دینی ہوگی۔ بڑے گھروں پر مختلف ٹیرف او رچھوٹے گھروں پر مختلف ٹیرف اور کمزو رطبقات کا ٹیرف بھی مختلف ہونا چاہیے۔ یہاں تو تین مرلہ کے گھر میں بھی ہزاروں کا بل دیا جاتا ہے جو غریب لوگوں کے لیے ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا سماج طبقاتی ہے او رہر فرد کو طبقاتی بنیادوں پر رکھ کر مراعات دینی ہوگی۔ اسی طرح لوگوں کو نجی شعبوں میں دکھیلنے کی بجائے حکومت کو اپنے سرکاری اداروں بالخصوص تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، انصاف کے نظام کو موثر، شفاف اور عام آدمی تک اس کی رسائی سمیت ان اداروں کی کوالٹی او رساکھ کو بحال کرنا ہوگا تاکہ لوگ نجی شعبہ سے نکل کر حکومتی اداروں سے زیادہ ریلیف یا رسائی حاصل کرسکیں۔کیونکہ عام آدمی کا بڑا مسئلہ ریاستی یا حکومتی سطح پر موجود اداروں کی عدم شفافیت، کرپشن او ربدعنوانی سمیت صلاحیتوں کے فقدان سے جڑا ہے۔

یہ اچھی بات ہے کہ حکومت نے مختلف نوعیت کے کمزور طبقات کے لیے پروگرا م شروع کیے ہیں جن میں احساس پروگرام، کسان کارڈ، راشن کارڈ، مکانوں کی تعمیر کے لیے آسان شرائط یا بغیر سودپر قرضوں کی فراہمی، چھوٹے مکانوں کی تعمیر، لنگر خانے، صحت کارڈ شروع کیے ہیں جو اچھے پروگرام ہیں او ران کی بھی پزیرائی ہونی چاہیے۔ مگر یہ مراعات محدود لوگوں تک ہے او راس کا دائرہ کار وسیع کرنا اور ہر فرد یا خاندان کی سہولتوں یا ریلیف کو ممکن بنانا حکومتی زمہ داری ہے۔بالخصوص نظام کی شفافیت، اصلاحات اور عملدرآمد کے نظام کو ہر صورت یقینی بنا کر ہی ہم

معاشرے کے مجموعی مفاد کو اہمیت یا فائدہ دے سکتے ہیں۔