خالد حسین تھتھال
وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے، اس کا احساس تب ہوتا ہے جب کوئی ہمدم دیرینہ وقت کی حد ود سے آگے نکل جائے۔ ایسے میں پیچھے رہ جانے والے راہ کے غبار میں آنکھیں ملتےان دنوں کی طرف لوٹنے لگتے ہیں جب نہ تو وقت کی رفتار کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے گزرنے کا احساس۔
زندگی کا سفر جاوداں دکھائی دیتا ہے۔ کبھی ختم نہ ہونے والا۔ جب آنکھوں میں خواب سجے ہوتے ہیں اور آنے والے کل کا ذکر یوں کیا جاتا ہے جیسے یقین کامل ہو کہ یہ کل ضرور آئے گا۔ اور تب آدمی اچھے وقتوں کے ان ساتھیوں کے ذکر سے کنج قفس بہاراں کرنے لگتا ہے جن میں سے کسی کی تصویرسامنے کسی خوبصورت فریم میں سجی مسکراتی ہے۔ جیسے پوچھتی ہو:
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا
(افتخار عارف )
جب خالد کی ناگہانی موت کی خبر ملی تو بے یقنی کے عالم میں ہم نے خبر دینے والے سے پوچھا :
خالد ! کونسا خالد۔۔۔اپنا خالد !
اور تب منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔۔یار خالد تم بھی مر گئے !
میں مرا کہاں ہوں؟ جیسے تمہاری سرگوشی سنائی دی ہو :
میں تو بلھے شاہ کے مسلک پر چلنے والا شاعرہوں۔ ہماری جیسوں کی صرف قبریں بنتی ہیں۔ ہم مرتے نہیں۔ ۔زندہ رہتے ہیں۔۔اپنی تحریروں میں۔۔اپنےتخلیقات میں۔۔ اپنے فن میں۔۔اپنے افکار میں۔۔۔لیکن تم اسے کیا سمجھو گے۔ تم تو ابھی اس تجربے سے گزرے ہی نہیں۔اور یہ کہتے ہوئے تمہاری ہر وقت سوچتی آنکھوں میں زندگی کی چمک اور ہونٹوں پر وہ دھیمی دھیمی مسکراہٹ بھی تھی جس سے تم اپنے دوستوں کا اسقبال کرتے تھے۔ہو سکتا ہے یہ سب میرا وہم ہو۔۔گمان ہو۔۔لیکن کچھ ایسی واردات مجھ پر اس ایک لمحے میں گزری تو ضرور تھی۔
خالد سے ہماری ملاقات سعید انجم نے کروائی تھی۔ موقع یاد نہیں لیکن شاید ادبی سنگت کی کسی نشست میں یہ ملاقات ہوئی تھی۔ پہلی ملاقات میں ہی ہم نے خالد کو اپنے دوسرے بہت سے ملنے والوں سے مختلف پایا۔۔۔کم سخن۔۔بے ساختہ گہری بات کر جانے والا۔۔ہر دم سوچتی آنکھوں میں تخلیقی عمل سے گزرنے والوں کی سی چمک۔۔نہ چبھنے والی ظرافت، جس میں کسی کی تضحیک کا پہلو نہ ہوتا،اور پھر اپنی ماں بولی سے ٹوٹ کر محبت۔
کبھی کبھی تو اس کی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ کر کے احساس کمتری سا ہونے لگتا۔ دل کہتا اس شخص میں ایک بہت بڑا فنکار کروٹیں لیتا اپنی نمو کیلئے مچل رہا ہے۔کوئی دن جاتا ہےکہ یہ پوری طرح کھل کر سب کو چونکا دے گا۔اور پھر سب نے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا۔
ادبی سنگت میں ملاقات کے بعد خالد سے ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ان دنوں ہم دونوں ہی اوسلو یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس تھے۔ خالد کرنگشا میں رہتا تھا اور ہم سانگ سٹوڈنٹ بیئن میں۔ گرمیوں کے دنوں میں شام کو کرنگشاسے جڑی سانگس وان جھیل پر سیر کیلئے جانا ہمارا روزہ مرہ کا معمول تھا۔کرنگشا میں اور بھی بہت سے پاکستانی سٹوڈنٹس اور نوواردان رہتے تھے اور یہاں آئے دن چھوٹی بڑی تقریبات اور ہلا گلا بھی ہوتا رہتا تھا۔ یہیں اکثر خالد سے ملاقات بھی ہوجاتی اور ہم ٹہلتے ہوئے جھیل کی طرف نکل جاتے جہاں گھاس کے کسی تختے پر بیٹھ کر وہ ہمیں اپنی کوئی نئی نظم یا افسانہ سناتا جو اسے ادبی سنگت کی کسی نشست میں پڑھنا ہوتا تھا۔
یونیورسٹی جانے کیلئے ہم تھے بان یعنی میٹرو لیتے تھے ۔ٹرین میں تقریباٌ ہر روز ہی اس سے ملاقات ہو جاتی۔پرانی طرز کی اس خوبصورت ریل کی چوبی بوگیوں کی سیٹوں کا رخ تبدیل کیا جا سکتا تھا ۔ جب ہم ٹرین میں سوار ہوتےتو خالد پہلے سے ہی موجود ہوتااور پھر ہم سیٹ کا رخ تبدیل کر کے آمنے سامنے بیٹھے،یونیورسٹی تک کے اس مختصر سفر میں فرمائش کر کے اس سے کوئی نئی چیز سن ہی لیتے۔کبھی وہ بڑی چاہ سے خود ہی سنا دیتا۔
حافظہ اب ساتھ نہیں دیتا لیکن اتنا یاد ہے کہ ہم سب نوواردان کو ابتدائی ایام غربت میں پاکستان میں اپنے گھر، شہر ، گاؤں،دوست احباب ، عزیز و اقارب بہت یاد آتے تھے ،اور خاص طور سے مائیں، جو ابھی حیات تھیں۔تب خالد جو بھی لکھتا اس میں ناسٹیلجیا بڑی شدت سے جھلکتا تھا،جسے سنا کر وہ خود بھی اداس ہو جاتا اور سن کرہم بھی۔ ماں کی محبت میں لکھی ایسی ہی ایک نا مکمل نظم بھی اس نے ہمیں تھے بان میں ہی سنائی تھی۔نظم تو یاد نہیں لیکن مفہوم کچھ یوں تھا کہ ماں کس طرح آٹے میں گھی کے ساتھ اپنی ممتا گوندھ کر اس کے لئے پراٹھے بناتی ہےاور پھر کس چاؤسے اسے کھلاتی ہے۔
ریڈیو ناروے سے نشر ہونےوالا اردو پروگرام شاید آپ میں سے کچھ احباب کو یاد ہو۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد برصغیر سے آ کر یہاں آباد ہوجانے والے تارکین وطن کو مقامی معاشرے کے بارے میں آگاہی دینا تھا تاکہ وہ اپنے حقوق و فرائض جان سکیں اور خود کو یہاں اجنبی محسوس نہ کریں۔ پاکستانیوں کا مطالبہ تھا کہ یہ پروگرام قومی زبان اردو میں ہی ہونا چاہیئے اور اس پر کوئی کمپرو مائز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن مقصد یہاں قومی زبان کی ترویج نہ تھا، بلکہ نئے آنے والوں کو بنیادی معلومات فراہم کرنا تھا۔اور حقیقت یہ تھی کہ بیشتر سننے والے اور خاص طور سے بزرگ خواتین وحضرات ناخواندہ تھے اور اخباری زبان میں کی جانے والی بات پوری طرح سے سمجھ نہ پاتے تھے۔
اس کاحل یوں تلاش کیا گیا کہ ایک ایسا پروگرام شروع کیا جائے جس میں اردو میں کی جانے والی بات چیت موقع پر ہی پنجابی میں دہرا دی جائے اور یہ احساس بھی نہ ہو کہ ترجمہ کیا جا رہا ہےکیونکہ ایسا کرنے سے لوگوں کی دلچسپی برقرار نہیں رہ سکے گی۔خالد سے مشورہ کیا توپروگرام۔۔ بات سے بات ۔۔شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں مختلف موضوعات پرخالد پنجابی میں اور فرحت نعیم کھوکھر اردو میں ایسے بات کرنا تھی جیسےوہ ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کر رہے ہوں۔
شروع شروع میں تو اس پروگرام کا تفصیلی سکرپٹ اردو میں لکھا جاتا تھا جس میں خالد اپنا حصہ پنجابی میں ترجمہ کر لیتے تھے، لیکن پھر خالد نے ہمیں تفصیلی سکرپٹ کی بجائے صرف پوائنٹس لکھنے لئے کہا جنہیں سامنے رکھ کر وہ کچھ لکھے بنا ہی روانی سے کمال گفتگو کرنے لگتے اوربات چیت کو دلچسپ بنانے کیلئے ساتھ ہی ساتھ کچھ چٹکلے بھی امپرووائز کرتے جاتے۔خالد کی خوبصورت پنجابی ،بات چیت کوچار چاند لگا دیتی ،جس نے اس پروگرام کو بہت مقبول بنا دیا تھا۔
یہاں ایک عجیب بات ہوئی۔ اس پروگرام میں خالد کا کیریکٹر چودھری صاحب کا تھا۔ اس دوران اچانک ہمیں ایسے گمنام خطوط موصول ہونے لگے جن میں تسلسل سے یہ شکایت کی جاتی کہ آپ چودھریوں کے منصب کو گرا رہے ہیں۔پروگرام میں چوہدری کا کردار۔۔معلومات لینے والا کیوں ہے۔۔دینے والا کیوں نہیں۔۔چوہدری کی بجائے آپ ملک، شیخ، قریشی، یا انصاری وغیرہ کیوں استعمال نہیں کرتے۔۔براہ کرام چوہدریوں کی ہتک نہ کیجئے۔
خالد نے یہ خطوط پڑھے تو طیش میں آ گئے۔ منافقت ملی جہالت انہیں آزردہ کر دیتی تھی۔ ایسے موقعوں پر وہ خاموش ہو جاتے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہم نے انہیں اتنے غصے میں دیکھا۔ ۔ خط لکھنے والے کے بارے میں جو الفاظ انہوں نے استعمال کئے انہیں یہاں دہرایا نہیں جا سکتا۔ بہر حال یہ خالد کی ٹھنڈی میٹھی طبیعت کا ایک اور پہلو تھا جس سے ہم تب تک واقف نہ تھے۔۔
خالد سنانے سے زیادہ سننے پر اصرار کرتا تھا اور پھر اس پر اپنی مخلصانہ رائے بھی ضرور دیتا تھا۔ہم نے جو بھی الٹا سیدھا لکھا، خالد نے پڑھا بھی اور سنا بھی۔۔اور ہمت بھی بڑھائی۔ یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ دو سال قبل اسی فورم پر میرے ناول ۔نکا ۔کی تقریب میں خالد نےایک تفصیلی مضمون پڑھا تھا، جو شاید ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ۔نکا ۔۔میں کہانی کو آگے بڑھانے کیلئےجو اساطیری حوالے دیئے گئےتھے اس کاپورا پس منظر اور ریسرچ اپنے مضمون میں انہوں نے شامل کر دی تھی اور پنجابی اور قدیم شاعری کےکچھ شعر بھی اس حوالے سے کوٹ کر دیئےتھے۔تعجب ہوا کہ اتنی تفصیل تو ہمیں معلوم نہ تھی۔ ہوتی تو شاید کچھ اور بھی لکھ دیتے۔لیکن یہی ایک سچے محقق کی شان ہے کہ جو کچھ وہ کہتا یا لکھتا ہے وہ اس نے پڑھا بھی ہوتا ہے۔ اور خالد ایسے ہی ایک وسیع المطالعہ محقق بھی تھے۔
خالد سے وائبر پر کبھی کبھار میسج کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ میں اس کی زندگی میں بھی اس سے کہتا تھا اوریہاں بھی کہتا ہوں کہ خالد پنجابی زبان اور شعرو ادب کیلئے ایک بہت بڑا سرمایہ ہے اور اس کے کام کو پنجابی کے نصاب میں شامل ہونا چاہئے۔اتفاق سے یہی بات وائبر پر اس کے آخری میسج کے جواب میں بھی میں نے کہی تھی۔
خالد کو جانا تھا، سو چلا گیا۔چاہئے تو یہ تھا کچھ دن اور رک جاتا۔پر کیا کیا جائے۔جانے والوں کو کبھی روک سکا ہے کوئی۔اپنے ہی ایک شعر میں وہ اپنی شاعری کے بارے کیا خوب کہتا ہے:
میرے شعر سخن دی گُڈی ،ڈور جے اینجے ای منگدی رہی
فیر ایہہ خالد خیر ہووے تے ۔۔۔ڈھیر اُچیری ہونی اے
وہ با کمال شاعر۔۔وہ بے مثال لکھاری اب ہم میں نہیں رہا۔ لیکن شعر و سخن کی ہواؤں کا یہ پریزاد ۔۔۔یونہی فن کی بلندیوں پر لہراتا رہے گا۔
بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں ، گور پیا کوئی ہور۔
( یہ مضمون خالد حسین تھتھال کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے 23 اکتوبرکو اوسلو میں فیملی نیٹ ورک کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں پڑھا گیا)