لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی سربراہ مقرر کردیا گیا، نوٹیفیکشن جاری
- تحریر بی بی سی اردو
- منگل 26 / اکتوبر / 2021
- 5010
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ملک کے اہم ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر دیا ہے۔
اس سلسلے میں منگل کی شام جاری کیے جانے والے نوٹیفیکشن کے مطابق وہ 20 نومبر 2021 سے اس عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ وہ اس عہدے پر تعیناتی سے قبل کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لیں گے جو تقریبا ڈھائی سال تک اس عہدے پر فائز رہے اور اب انہیں پشاور میں 11ویں کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے تاہم وہ 19 نومبر تک بطور ڈی جی آئی ایس آئی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
پاکستان فوج کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان چھ اکتوبر کو سامنے آیا تھا تاہم اس تقرری کا نوٹیفیکشن تین ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران پاکستان میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کا معاملہ خبروں اور تبصروں کا بڑا موضوع رہا اور یہ بحث بھی جاری رہی کہ اس عہدے پر تقرری کس کا استحقاق ہے۔
وزیراعظم پاکستان کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے معاملے پر منگل کو برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی تھی۔ بیان کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے لیے وزارتِ دفاع سے جو فہرست وزیراعظم کو بھیجی گئی تھی اس میں شامل تمام افراد کا وزیراعظم نے انٹرویو کیا اور پھر حتمی مشاورت کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا نام نئے سربراہ کے طور پر چنا گیا۔
28 پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم فوج میں ایک سخت گیر اور خاموش طبع افسر کے طور پر مشہور رہے ہیں۔ ان کا تعلق 77ویں لانگ کورس سے ہے۔ انہوں نے بطور بریگیڈیئر فوجی آپریشنز کے دوران قبائلی علاقوں میں بریگیڈ کمانڈ کی جبکہ وہ کراچی کور میں چیف آف سٹاف بھی تعینات رہ چکے ہیں۔
وہ رائل کالج آف ڈیفینس سٹڈیز سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل راحیل شریف بھی اسی کالج کے فارغ التحصیل تھے۔
اس کورس کے بعد وہ بطور میجر جنرل انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان نارتھ مقرر ہوئے اور وہیں لیفٹننٹ جنرل کے طور پر کچھ عرصہ کمانڈنٹ سٹاف کالج بھی رہے۔ کراچی میں فوج کے ہاتھوں آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد انہیں لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کی جگہ کراچی کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔
مبصرین کے مطابق آئی ایس آئی سیاسی اور عسکری دونوں سطح پر کام کرتی ہے اور اپنا اِن پُٹ دیتی ہے۔
آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی لیفٹننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی کے مطابق آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل اپنے ادارے کی حد تک بہت طاقتور ہوتا ہے۔