ٹی ایل پی کے لانگ مارچ کے دوران تصادم میں پولیس اہلکار شہید

  • بدھ 27 / اکتوبر / 2021
  • 3860

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سدھوکی کے قریب پہنچ گیا ہے جہاں پولیس کے ساتھ تصادم میں ایک اہلکار شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

پنجاب پولیس کے ترجمان نیاب حیدر کا کہنا تھا کہ کشیدگی کے دوران مزید پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں لیکن حتمی اعداد وشمار سے آگاہ نہیں کیا۔ اس سے قبل ٹی ایل پی کی مرکزی کمیٹی نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید پر حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاملات طے پانے کے بارے میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین اب جلد ہی مریدکے سے اپنی اعلان کردہ منزل اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔

تنظیم کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ٹی ایل پی کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ شیخ رشید نے کل جھوٹ بولا کہ معاملات طے پاگئے ہیں، انہوں نے رات 8 بجے  رابطے کے بارے میں بھی جھوٹ بولا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پوری قوم حکومت کی بدنیتی کو دیکھ لے‘۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز شیخ رشید نے کہا تھا کہ حکومت کو ٹی ایل پی کے مطالبات پر کوئی ’تحفظات‘ نہیں ہیں اور تنظیم کے ساتھ بات چیت کے تمام معاملات پر اتفاق ہے سوائے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے معاملے پر۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ حکومت اور ٹی ایل پی دیگر تمام معاملات پر ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں اور وہ رات 8 بجے دوبارہ تنظیم سے رابطہ کریں گے۔ شیخ رشید کی جانب سے ٹی ایل پی کے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کو پورا نہ کرنے کے اعلان کے بعد ٹی ایل پی نے کہا تھا کہ اس کے کارکن اب اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

ملک بدری کے حوالے سے سرور شاہ سیفی نے کہا کہ فرانس نے حکومتی سطح پر توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا اور اسی طرح ٹی ایل پی موجودہ حکومت سے سرکاری ردعمل کی توقع کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا یہ ریاست مدینہ کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے قاصر ہیں؟ کیا یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اتنے غلام بن چکے ہیں؟

سرور سیفی نے کہا کہ اگر مزید خون بہایا گیا تو مطالبات بڑھ جائیں گے اور قوم کو ’اس بے ایمان، جھوٹی اور منافق حکومت سے نجات دلائی جائے گی‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قوم سے جھوٹ مت بولو، ہمارے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، حکومت مذاکرات میں مخلص نہیں لیکن اگر اب مزید خون بہایا گیا تو بدلا لیا جائے گا‘۔

بیان میں وزیر اعظم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ ’ان کو عوام سے کچھ لینا دینا نہیں ہے‘۔ عوام جان لیں کہ یہ بے ایمان نہ ملک کے وفادار ہیں اور نہ ہی قوم کے اور کپتان کو ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانے کے لیے پلانٹ کیا گیا ہے۔

بیان میں ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مزید خونریزی اور جانی نقصان کی ذمہ دار وزیر اعظم اور حکومت پر ہوگی۔

اس سے قبل منگل کی شب راولپنڈی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مظاہرین کو وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے فیض آباد انٹرچینج کو بند کر دیا جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقوں اور سڑکوں کو کنٹینرز سے سیل کرنا شروع کر دیا۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں پولیس کی تعیناتی صبح سے پہلے مکمل کی جانی تھی اور کسی بھی احتجاج کو روکنے کے لیے سڑکوں کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر بند کرنا تھا۔