پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے سعودی عرب کی امداد
- بدھ 27 / اکتوبر / 2021
- 6860
سعودی عرب نے ایک بار پھر پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو استحکام دینے کے لئے پاکستان کو تین ارب ڈالر کی امداد دے گا۔ اس کے علاوہ مؤخر ادائیگیوں پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے ایک ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل فراہم کیا جائے گا۔
پاکستان کے مشیر خزانہ شوکت ترین اور وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر بیانات میں اس کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق سعودی عرب سے ملنے والی رقم ایک سال تک حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع رہے گی۔ پاکستانی حکام کو توقع ہے کہ اس رقم سے پاکستان کو انٹرنیشنل مانٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو اپنے فنانسنگ پلان کے بارے میں مذاکرات کے دوران قائل کرنے میں آسانی ہوگی۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ معاہدے میں چند ایک چیزیں رہ گئی ہیں جس پر بحث ہو رہی ہے۔ تمام معاملات کو جلد طے کر لیا جائے گا۔
شوکت ترین نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے مارکیٹ پر مثبت اثر سامنے آئے گا۔ دوسری جانب سعودی عرب سے ملنے والی رقم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں ہے۔ سعودی عرب نے چار ارب 20 کروڑ ڈالر کا پیکیج دیا ہے۔ اس کے ساتھ ماہانہ 10 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل مؤخر ادائیگیوں پر فراہم کیا جائے گا۔
سعودی عرب پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے لیے تین ارب ڈالر دے گا۔ سعودی عرب سے ملنے والی رقم پاکستان کے لیے بہت مفید ہے۔ سعودی عرب سے پیسہ اور تیل انہی شرائط پر ملا جو پہلے تھیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جو تقابلی جائزہ آیا ہے اس میں پاکستان سستا ترین ملک ہے۔ تیل کی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود عوام کو سہولتیں دے رہے ہیں، ماضی میں تیل پر لیوی لی جاتی تھی۔
پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پوری دنیا معاشی مسائل کا شکار ہے۔ معاشی تیزی کے لیے اقدامات سے اثرات کھانے پینے اور دیگر اشیاپر مرتب ہوئیں۔ دنیا بھر میں کھانے پینے اور تونائی کی مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چھ ماہ تک دنیا بھر میں قیمتیں کم ہوں گی۔ دیگر تمام ممالک کی نسبت پاکستان میں تیل کی قیمتیں قدرے کم ہیں۔ حکومت نے گیس کی قیمتیں کنٹرول کی ہیں اور یوریا کھاد کی قیمتیں بھی نہیں بڑھنے دی گئیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کو یہ رقم فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد یہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں جمع ہو گئی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان کی معیشت کو سہارا دے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید مشکلات سے دو چار ہے اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
منگل کو انٹر بینک میں ڈالر 175 روپے کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے 175 روپے 10 پیسے پر بند ہوا۔ تاہم سعودی امداد کے اعلان کے بعد روپے کی قیمت میں استحکام دیکھا گیا۔