کالعدم ٹی ایل پی کا احتجاج روکنے کے لئے پنجاب میں دو ماہ کے لیے رینجرز طلب
- بدھ 27 / اکتوبر / 2021
- 8950
کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان نے وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔
لاہور کے قریب سادھوکی کے مقام سے مذہبی جماعت کے کارکنوں کے جی ٹی روڈ پر مارچ کے دوبارہ آغاز کرنے پر پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کی۔ اس دوران پولیس اہل کاروں اور تحریکِ لبیک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے سڑک پر کھڑے بعض ٹرکوں کو آگ لگانے کی کوشش کی، جب کہ اطراف میں املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔ البتہ ٹی ایل پی کے بعض ذمہ داران کی جانب سے ان اطلاعات کو جھوٹ قرار دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اہل کاروں کے نشانہ بننے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
مرید کے اور شیخوپورہ کے اسپتالوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق 50 کے لگ بھگ زخمی پولیس اہل کاروں کو اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ پنجاب پولیس کے حکام کا الزام ہے کہ احتجاج میں موجود مظاہرین میں بعض افراد کے پاس اسلحہ بھی ہے جس سے اہل کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان نے بھی پولیس کے تشدد سے کارکنوں کے نشانہ بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے آئندہ 60 روز کے لیے رینجرز بلانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں شیخ رشید نے کہا کہ جھڑپوں میں تین پولیس اہل کار ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 70 زخمی ہیں جن میں متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔
انہوں نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ ان کی جانب سے کلاشنکوف سے براہِ راست پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت جہاں چاہے رینجرز کو استعمال کر سکتی ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے رینجرز کو طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والی کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان پر الزام لگایا کہ ٹی ایل پی کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ ان کے مطابق ابھی بھی وہ واپس لاہور مسجد میں چلے جائیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں فرانس کا سفیر موجود نہیں ہے۔ ٹی ایل پی کو آگاہ کر چکے ہیں کہ فرانس کا سفارت خانہ بند نہیں کر سکتے۔ احتجاج کرنے والے مظاہرین کے مطالبات میں فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنا بھی شامل ہے۔
تحریک لبیک پاکستان کا احتجاجی مارچ مطالبات کی منظوری کے لیے جمعہ 22 اکتوبر کو لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آغاز پر مظاہرین نے سادھوکی کے مقام پر مارچ کو روک کر قیام کا اعلان کیا تھا۔ قائدین نے حکومت کو منگل 26 اکتوبر کی رات تک مطالبات کی منظوری کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
تحریک لبیک پاکستان کے دو مطالبات ہیں کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر فرانس کے سفیر کو ملک سے بے دخل کیا جائے اور ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو رہا کیا جائے۔ تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان مطالبات کے حوالے سے متعدد مذاکراتی دور ہوئے جو تاحال بے نتیجہ رہے ہیں۔
بدھ کو پاکستان کی وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں ٹی ایل پی کے احتجاج کے معاملے پر بھی غور کیا گیا تھا۔ کابینہ کے اجلاس کے فوری بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بریفنگ میں بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ عسکریت پسند گروہ کے طور پر سلوک کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی مذہبی جماعت نہیں ہے۔ یہ تنظیم بہانے بہانے سے دھرنا دینے کی عادی بن چکی ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ کسی کو طاقت کے زور پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے منگل کو ٹی ایل پی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے معاملے کے علاوہ کالعدم تحریک لبیک کے باقی تمام معاملات پر بات کرنے اور حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنا ممکن نہیں ہے۔