پاکستان کو اپنا دوٹوک مؤقف دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے: معید یوسف

  • جمعرات 28 / اکتوبر / 2021
  • 3380

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ’غیر معذرت خواہانہ‘ انداز سے اپنا بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں قومی بیانیے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی مؤقف 'فعال، غیر معذرت خواہانہ اور حقیقت پسندانہ' ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے پاکستان سے متعلق مغربی بیانیے کو اس حد تک جذب کر لیا ہے کہ اندرونی طور پر بھی یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا پاکستان کا بیانیہ درست ہے؟

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ یہ ان کے لیے پریشان کن والی صورتحال ہے کیوں کہ ان کے مطابق پاکستان کے پاس یہ بتانے کے لیے ایک ’حقیقی کہانی‘ تھی کہ ملک کیا کر رہا تھا اور کس کے لیے کھڑا تھا اور اس کے لیے معذرت خواہانہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہمارے پاس اصل میں ایک کہانی ہے جو قابل یقین، منطقی اور سچی ہے، جسے ہمیں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ ہم کون ہیں اور ہم کس کے لیے کھڑے ہیں۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ سب سے اہم چیز جس نے مجھے سب سے زیادہ پریشان کیا اور اب بھی کرتی ہے وہ رابطے کے طریقوں میں معذرت خواہانہ طرز عمل ہے۔

معید یوسف کے مطابق ایک اور مسئلہ ’اپنی زبان دوسروں سے بولنا اور دوسروں سے اسے سمجھنے کی توقع کرنا‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر موقع پر ہرطرح کے سامعین کے سامنے ایک ہی بیانیہ اور گفتگو کے نکات استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ مواد سے ہٹ کر یہ بھی اہم ہے کہ کون اسے پہنچا رہا ہے اور کس طرح پہنچا رہا ہے۔

مشیر قومی سلامتی نے سوال کیا کہ پاکستانیوں کی آواز کیوں زیادہ کیوں نہیں سنی جا رہی اور کیوں زیادہ لوگ اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں لکھ رہے یا پیش نہیں کر رہے، پاکستان کو سمجھنے والے کتنے پاکستانی اہم دارالحکومتوں میں تھنک ٹینکس میں شامل ہیں؟

انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا نے 20 سال سے پاکستان کی ایسی تصویر پیش کی ہے جیسے پاکستان افغانستان میں کسی حل کے بجائے مسئلہ ہو۔ اب جو کچھ افغانستان میں ہوچکا اس کے بعد بھی اگر مغربی لوگوں سے بات کریں تو انہوں نے یہ بیانیہ اپنے لیے اتنی مرتبہ دہرالیا ہے کہ وہ اسے حقیقت مانتے ہیں اور آپ چاہے کچھ بھی کرلیں دوسرے فریق کو سمجھانا عملاً نا ممکن ہے۔

مشیر قومی سلامتی نے قومی بیانیے پر بھی اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک واحد بیانیے کی کوشش کرنے پر یقین نہیں رکھتے، بیانیہ ہمیشہ حقیقت کا عکاس ہونا چاہیے۔ پاکستان اور دیگر ممالک کس طرح بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہیں، اس میں فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ماڈل ہماری صحیح حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے جبکہ ان کا ماڈل دوسروں کو بدنام کرنے کے لیے جعلی خبروں کا ایک پورا عالمی نیٹ ورک بنانا ہے۔

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ بیانیہ تخلیق کرنے کے لیے کچھ پیشگی شرائط درکار ہوتی ہیں جن میں ایک پوری حکومت کا یکساں مؤقف ہونا بھی ہے۔ آپ کا بیانیہ ایسا نہیں ہوسکتا جس میں آپ جو کچھ دنیا کو بتارہے ہوں اس کے حوالے سے تضاد ہو۔