ٹی ایل پی کا لانگ مارچ گوجرانوالہ کے قریب پہنچ گیا
- جمعرات 28 / اکتوبر / 2021
- 3660
کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ہزاروں کارکنان پر مشتمل ریلی کامونکی سے نکل کر گوجرانوالہ شہر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ جس کے باعث اطراف کے علاقوں میں کاروبارِ زندگی معطل ہوگیا۔
جی ٹی روڈ پر تقریباً 4 ہزار کارکنان بڑے ٹرکوں اور بسوں میں اشیائے ضروریہ کے ہمراہ سفر کررہے ہیں۔ ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے کارکنان انہیں تمام اطراف سے تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ یہ ریلی اسلام آباد کی جانب سفر جاری رکھنا چاہتی ہے۔
قبل ازیں بدھ کو ٹی ایل پی مظاہرین نے ضلع گوجرانوالہ میں دونوں اطراف سے جی ٹی روڈ بلاک کردیا تھا کہ جس سے مسافروں اور مقامی افراد کو آمد و رفت میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تحصیل کامونکی سے جہلم تک موبائل فون سروسز بھی 24 گھنٹوں کے لیے معطل رہیں۔
غیر یقینی صورتحال کے باعث جی ٹی روڈ کے ساتھ موجود تعلیمی ادارے بھی بند کردیے گئے۔ دوسری جانب رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے دریائے چناب کے نزدیک وزیر آباد کی سرحد پر پوزیشنز سنبھال لی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی حکام کا ٹی ایل پی کارکنان کو گوجرانوالہ شہر کے بجائے وزیر آباد چناب کے علاقے میں روکنے کا ارادہ ہے۔
صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان ریلوے نے اعلان کیا کہ لاہور اور راولپنڈی کے درمیان شام 4 بج کر 30 منٹ پر چلنے والی سبک خرام اور شام 6 بجے چلنے والی اسلام آباد ایکسپریس اور رات 12بج کر 30 منٹ پر چلنے والی راول ایکسپریس کو بھی دونوں اطراف سے آج کے لیے معطل کیا گیا ہے۔
اسی طرح پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو پشاور اور لاہور کے درمیان آج کے روز معطل کردیا گیا ہے، گرین لائن کو راولپنڈی اور لاہور کے درمیان آج کے روز معطل کیا گیا ہے۔ ترجمان ریلوے کے مطابق تیزگام ایکسپریس کو بھی آج کے روز راولپنڈی اور لاہور کے درمیان معطل کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ٹی ایل پی کی ریلی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی طریقے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزرا موجودہ صورتحال پر متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک وزیر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 2020 میں ٹی ایل پی کے ساتھ ہوئے معاہدے سے لاعلم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ افراتفری کا عالم ہے اور قیادت کا فقدان ہے۔ حکومتی مشینری بالکل بے خبر ہے۔ یہ عمران خان کا طرزِ حکمرانی ہے۔
حکومت واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ وہ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کو بند کرنے کے ٹی ایل پی کے مطالبے کو پورا نہیں کر سکتی۔ وزارت خارجہ نے اس دوران یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں فرانس کا سفیر نہیں ہے۔
کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ٹی ایل پی کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیا جائے گا اور اسے کچل دیا جائے گا جیسا کہ اس طرح کے دیگر گروپس کو ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا یہ اعلان مریدکے اور سادھوکے کے قریب ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد سامنے آیا جس میں کم از کم 4 پولیس اہلکار جاں بحق اور 263 زخمی ہونے ہوگئے تھے۔
ٹی ایل پی نے عویٰ کیا ہے کہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تنظیم کے 2 کارکن جاں بحق اور 41 زخمی ہوئے ہیں۔ ٹی ایل پی کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی پرامن ریلی کے خلاف طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا لیکن گروپ کی جانب سے اس کے ورکرز کی ہلاکت کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے کرکے اور ماضی کے کچھ ویڈیو کلپس پوسٹ کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
ایک بیان میں ٹی ایل پی کی مرکزی شوریٰ نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کو 3 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے لیکن وہ پولیس وین اور مزدا ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔ بیان میں عہدیداران کے اس بیان کو بھی رد کیا گیا کہ ٹی ایل پی کارکنان نے جھڑپوں کے دوران ہتھیار استعمال کیے اور اس الزام کا ثبوت طلب کیا۔
ادھر کالعدم ٹی ایل پی کے مارچ کے شرکا پر پولیس تشدد کے خلاف شہدا فاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شرکا پر پولیس تشدد کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے، شرکا پر تشدد کے ذمہ داران کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج اور علمائے کرام پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
درخواست میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری، وزارت داخلہ اور وزیر داخلہ سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مزید استدعا کی گئی ہے کہ زخمیوں اور انتقال کرنے والوں کی درست تعداد عدالت کو فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔