تحریک لبیک کے احتجاج پر غور کے لئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا
- جمعرات 28 / اکتوبر / 2021
- 5050
تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔
لانگ مارچ کامونکی میں قیام کے بعد جمعرات کو ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے اور گوجرانوالہ پہنچ گیا ہے۔ کالعدم مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک سے ایک بار پھر اسلام آباد میں مذاکرات کی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا ہے کہ ریاست کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے تحریک لبیک سے سختی سے اور بطور عسکریت پسند گروپ نمنٹنے کے اعلانات کے باوجود کامونکی سے روانگی کے بعد قافلے کے شرکا کو تاحال کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔
مارچ میں شامل تحریکِ لبیک کے رہنما مفتی عمیر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ قافلہ گوجرانوالہ میں داخل ہو گیا ہے اور ان کے بقول راستے میں انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
مارچ میں شامل قائدین کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس قافلے کا اگلا پڑاؤ چند دا قلعہ بائی پاس ہو گا۔
مقامی صحافی راجہ حبیب کے مطابق گوجرانوالہ میں بھی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے تاہم وزیر آباد کے قریب سڑک پر خندقیں کھود دی گئی ہیں اور بظاہر وہاں لانگ مارچ کے شرکا کو روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق گجرات شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سکیورٹی سخت ہے اور لاہور سے آنے والے تمام راستے بند کر کے دریائے چناب کے پل پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر پولیس اور رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اس لانگ مارچ کے تناظر میں بدھ کی شام سے رینجرز کو تعینات تو کیا گیا ہے لیکن تاحال قافلے کے قریب رینجرز موجود نہیں ہیں۔
اس دوران وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے ٹوئٹر پر سلسلہ وار پیغامات میں کہا ہے کہ تمام افراد اور گروہ جو سمجھتے ہیں کہ وہ ریاست کی رٹ چیلنج کر سکتے ہیں، اس کا تجربہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ تحریکِ لبیک پاکستان نے سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور وہ ریاست کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو شہید کیا، عوامی املاک کو تباہ کیا اور عوام میں بےچینی پھیلائی۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور دہشت گردوں سے دہشت گردوں کی طرح کا سلوک کیا جائے گا اور کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ٹوئٹر پر ہی ایک پیغام میں پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کالعدم جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور ہو گا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق دیگر امور بھی زیر غور آئیں گے۔
ادھر تحریکِ لبیک کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت سے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور اس مرتبہ مذاکراتی ٹیم کی قیادت سربراہ تحریک لبیک پاکستان سعد رضوی کر رہے ہیں جنہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے اسلام آباد لایا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق مذاکرات میں تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے تاحال مذاکرات کے اس دور کے بارے میں کوئی بیان یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ کالعدم تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان اپنے مطالبات پر قائم ہے۔ ’ہمارا پہلے دن سے ایک ہی مطالبہ تھا، فرانسیسی سفیر کی ملک بدری۔ باقی مطالبات حکومتی تصادم سے پیدا ہوئے۔‘
تحریکِ لبیک کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ مذاکرات کو عام عوام کے سامنے لائیں اور ان کا مؤقف بھی سامنے رکھا جائے۔