عبدالقدوس بزنجو بلامقابلہ بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے
- جمعہ 29 / اکتوبر / 2021
- 3600
بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے میر عبدالقدوس بزنجو بلا مقابلہ وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب ہوگئے ہیں۔
میر عبدالقدوس بزنجو 39 ووٹ حاصل کرکے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے جن میں ایک ووٹ اپوزیشن رکن جبکہ 38 ووٹ بی اے پی اور اتحادی جماعتوں کے تھے۔ اسمبلی میں کُل 64 ارکان ووٹ ڈال سکتے تھے۔ عبدالقدوس بزنجو کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے ان میں سے 33 ووٹ درکار تھے لیکن وہ باآسانی 39 ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے انتخاب کے لیے ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت قائم مقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے کی جس کے دوران آئین کی دفعہ 130 (4) کے تحت انتخاب عمل میں لایا گیا۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں اپوزیشن کی جانب سے صرف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نواب ثنا اللہ زہری نے ووٹ دیا۔
ان کے سوا جمعیت علمائے اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) اور آزاد امیدوار نواب اسلم رئیسانی نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ نو منتخب وزیراعلیٰ بلوچستان آج گورنر ہاؤس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ وہ دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں حکومتی جماعت بی اے پی کے ناراض اراکین کی جانب سے 20 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی میں سابق وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔ تاہم قرار داد پر ووٹنگ سے ایک روز قبل ہی جام کمال خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
عبدالقدوس بزنجو اس سے قبل اسپیکر بلوچستان اسمبلی تھے لیکن جام کمال خان کے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے عہدے کے لیے اسپیکر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ نئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو یکم جنوری 1974کو بلوچستان کے علاقے آواران میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم آبائی علاقے آوران کے علاقے جاؤ سے حاصل کی۔
عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے 18ویں وزیر اعلیٰ ہیں۔