لانگ مارچ رکوانے کے لئے حکومت سعد رضوی سے مذاکرات کررہی ہے: شیخ رشید

  • جمعہ 29 / اکتوبر / 2021
  • 3330

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لیبک پاکستا کے سربراہ سعد رضوی کے ساتھ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پروہ وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کے ساتھ  آج شام پھر مذاکرات کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ معاملات افہام و تفہیم سے طے پائیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ رینجرز کو آرٹیکل 147 کے تحت پنجاب میں پولیس کو رینجرز کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 97 کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں جس کے بعد ان کی تعیناتی کی صوابدید پنجاب حکومت کی ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت، ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر قائم ہے لیکن ٹی ایل پی نے تاحال سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بحال کیا اور نہ ہی جی ٹی روڈ چھوڑ کر مرکز واپس گئے ہیں جس کے بعد معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔ موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم عمران خان آئندہ چند روز میں قوم سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم کا بیانیہ دراصل پوری قوم کا بیانیہ ہوگا۔

شیخ رشید نے کہا کہ حکومت کی ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کے ساتھ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے اور کالعدم تنظیم کے ساتھ معاہدے پر دستخط وزیر اعظم کی منظوری کے بعد کیے تھے۔ ٹی ایل پی کے ساتھ جھڑپوں میں 4 پولیس اہلکار شہید جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ بعض واٹس ایپ گروپ بھارت، ہانگ کانگ اور جنوبی افریقا سے آپریٹر کیے جارہے ہیں جبکہ مقامی سطح پر آپریٹ کیے جانے والے واٹس ایپ گروپ کو ایف آئی اے دیکھے گی۔

اس سے قبل اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے انتہائی مختصر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنظیم کے ساتھ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

انہوں نے قومی سلامتی کے اجلاس سے متعلق بتایا کہ اجلاس 2 گھنٹے پر محیط تھا اور اجلاس سے متعلق اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے لیکن ریاست کی رٹ کو ہر ممکن قائم رکھا جائے گا۔ خواہش ہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ تمام امور خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی اور پولیس کے مابین شدید جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب ٹی ایل پی نے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی اور سفارتخانہ بند کرنے کے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اسلام آباد کی جانب مارچ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔

پولیس کا دعویٰ کیا کہ اس کے 4 اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں تنظیم کے 2 کارکن جاں بحق اور 41 زخمی ہوئے ہیں۔

اپنے بیان میں ٹی ایل پی کی مرکزی شوریٰ نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کو 3 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے لیکن وہ پولیس وین اور مزدا ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے تھے۔