وزیر آباد میں تحریک لبیک پاکستان کا دھرنا جاری ہے
- ہفتہ 30 / اکتوبر / 2021
- 5660
کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی شرکا اپنی قیادت سے ملنے والی ہدایت کے منتظر ہیں۔ کارکنوں نے وزیر آباد میں دوسرے روز بھی اپنا دھرنا جاری رکھا۔
گزشتہ روز گوجرانوالہ سے وزیر آباد پہنچنے والے کارکنان نے ظفر علی خان بائی پاس پر رات گزاری۔ اس دوران شہر میں ٹریفک اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی جبکہ کاروبار بھی بند رہا۔ اس سے قبل ایک سینئر اہلکار نے بتایا تھا کہ ٹی ایل پی اور پولیس کے مابین جھڑپ دو بڑے سیکیورٹی پوائنٹس پر متوقع تھا جو کہ دریائے چناب اور جہلم پر قائم کیے گئے تھے جو اسلام آباد تک مارچ کا واحد راستہ تھا۔
جمعہ کو چناب ٹول پلازہ پر مارچ کرنے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سینکڑوں رینجرز اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس بکتر بند گاڑیاں بھی ہیں۔ چناب ٹول پلازہ سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر پنجاب رینجرز نے ایک 'ریڈ لائن' مقرر کردی ہے اور قریب ہی ایک نوٹس لگا کر مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ لائن کی خلاف ورزی نہ کریں ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹی ایل پی کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آپ بزور طاقت ریاست سے باتیں نہیں منوا سکتے جبکہ مذاکرات آئین اور قانون کے تحت ہوں گے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ٹی ایل پی کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ٹی ایل پی کو مزید قانون شکنی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ کالعدم تنظیم تحریک لیبک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے ہیں اور زیر حراست تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کے ساتھ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ حکومت، ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر قائم ہے لیکن ٹی ایل پی نے تاحال سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بحال کیا اور نہ ہی جی ٹی روڈ چھوڑ کر مرکز واپس گئے ہیں جس کے بعد معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔