فطرت اور ماحول

فطرت تو ہر ملک و معاشرے پر مہربان ہے جہاں اس نے بلند و بالا پہاڑوں ندی نالوں دریاؤں سمندروں اور میدانوں کے ساتھ ساتھ ان میں بے شمار ذہین و فطین لوگ بھی پیدا کئے۔ فطرت نے کسی کے ساتھ تعصب نہیں برتا لیکن انسان نے انسان کا جی بھر کر استحصال کیا۔ 

 تعصب سے پاک معاشروں نے ترقی کی بلندیوں کو چھوا لیکن تعصب کا شکار معاشرے آپس میں ہی لڑ کر اپنی توانائیاں ضائع کرتے رہے۔ اسلامی دنیا میں جب تعصب نہیں تھا تو اس نے سائنس کی بنیاد رکھی جس کو یورپ نے ترقی کے ماڈل کے طور پر استعمال کیا لیکن جب فرقہ واریت کا شکار ہوئے تو غلامی کی دلدل میں ایسے پھنسے کہ نکلنے کا کوئی راستہ ہی نظر نہیں اتا۔  یورپ نے تحقیق و تخلیق کو اپنا مشن بنا کر ترقی کی رائیں ہموار کیں اور مسلمانوں نے زیادہ تر وسائل بنگلوں اور موروثی سیاست پر خرچ کیے۔ یورپی محقیقن نے پودوں پتوں اور  مختلف رنگ و نسل کے جڑواں بچوں کو مختلف ماحول میں لے جا کر یہ جاننے کے لیے پرورش کی کہ  آیا فطرت پر ماحول کا کتنا اثر ہے۔  ترقی یافتہ ممالک میں نیچر اور نرچر پر علمی بحث تو اب بھی جاری ہے لیکن تحقیق کے ذریعے ماہرین یہ ثابت کر چکے ہیں کہ فطری ذہانت کو اگر مثبت ماحول نہیں ملے گا تو وہ منجمد ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں ریاست ترقی نہیں کرے گی کیونکہ ریاست کی ترقی کے لیے مثبت سیاست اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 اور ادارے تب مضبوط ہوں گے جب ان میں بلا امتیاز باصلاحیت اور باکردار لوگ تعینات کیے جائیں گے۔  یوں تو ہمارے ملک و معاشرے  میں باصلاحیت لوگوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں لیکن صرف ہمارے اپنے قبیلے میں درجنوں ڈاکٹرز اور وکلا موجود ہیں جو قدم قدم پر سیاسی سفارش کے محتاج تھے تو تنگ آکر برطانیہ چلے گئے جہاں تھوڑے ہی عرصہ میں انہوں نے اپنے قدم جما لئے۔ ان میں ایک آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ عرصہ وزیر رہنے والے راجہ نثار احمد خان کے داماد اور میرے بھانجے ڈاکٹر زاہد اقبال ہیں جن کے والد ایک بڑے بزنس ایمپائر کے بانی ہیں۔ لیکن وہ ریاستی نظام سے تنگ آ کر برطانیہ بھاگ گئے۔

دوسری مثال ہمارے کزن حامد علی خرم ایڈووکیٹ ہیں جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کرنے کے بعد لاہور اور کوٹلی میں کچھ عرصہ  پریکٹس کی ۔ ان کے والد راجہ عبدالرائوف خان ڈپٹی کمشنر تھے مگر بڑھتی ہوئی موروثی سیاست میں جب انہیں  اپنا مستقبل نظر نہ آیا تو وہ بھی برطانیہ چلے گئے۔ پہلے پانچ سالوں میں ہی انہوں نے خود کو بحثیت وکیل اور سیاسی کارکن ایڈجسٹ کر لیا۔ لیگل پریکٹس کے لیے مطلوبہ لیگل کورس کرکے کامیاب وکالت شروع کی اور ساتھ ہی مقامی سیاست میں حصہ لے کر کونسلر کا الیکشن جیت گئے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ چند ایک انگریز سیاسی کارکنوں نے شکایت کی کہ حامد علی خرم تو ابھی برٹش نیشنل نہیں بلکہ صرف سکونتی ہیں مگر انہیں مستقل سکونت ملنے کی وجہ سے قانون الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیتا تھا۔ اس لیے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی گئی۔ جبکہ مجھ جیسے لوگوں کو اپنی ہی ریاست الیکشن لڑنے کا اس لئے حق نہیں دیتی کہ میں اس ریاست کے مستقبل کا  اصولی فیصلہ ہونے سے پہلے  کسی مسلط کردہ  الحاق کا حامی نہیں ۔

حامد علی خرم  آج ایک کونسلر ہیں لیکن وہ ابھی جوان ہیں اور ہمیں پوری امید ہے کہ برطانیہ کا صحت مندانہ اور غیر موروثی سیاسی نظام انہیں قومی پارلیمنٹ تک پہنچنے کا بھی پورا موقع دے گا۔ کیونکہ اس کے لیے ان میں تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کی نسبت پاکستان اور آزاد کشمیر کا سارا سیاسی ، تعلیمی ، اقتصادی اور عدالتی نظام موروثی سیاست دانوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے جس کے زمہ دار وہ لوگ بھی ہیں جو جاننے اور سمجھنے کے باوجود خاموش ہیں۔ ایسی مجرمانہ خاموشی کو کسی بھی دور میں اور کسی بھی حال میں معاف نہیں کیا گیا۔ اسی لیے حضرت صالح کی اونٹنی کے صرف چار قاتلوں کو ہی نہیں بلکہ خاموش بستی کو بھی مجرم قرار دیا گیا تھا۔  جس برطانیہ میں پانچ سال کے اندر اندر میری ہی فیملی کا ایک رکن حامد علی خرم کامیاب وکیل اور سیاستدان بن گیا اسی برطانیہ میں ریاست جموں کشمیر اور اس کے باسیوں کی آزادی کے لیے جد وجہد کے جرم میں 22 سال سزا کاٹ کر وہاں رہنے کا اپنا حق استعمال کیے بغیر باقی ماندہ زندگی بھی تحریک کے لیے وقف کرنے وطن واپس آ گیا۔ مگر یہاں آزادی کے نام لیواؤں کو ایکٹ 1974 اور الحاق کی منحوس شق یاد دلائی جاتی ہے۔   جس طرح حضرت صالح کی اونٹنی کے قتل کا ذمہ دار پوری بستی کو ٹھہرایا گیا تھا اسی طرح اس ریاست کے ساتھ ہونے والے جبر پر خاموش رہنے والوں کو بھی ایک دن تاریخ ضرور سزا دے گی کیونکہ یہ قانون فطرت ہے۔ 

 کچھ حقائق تو لوگ دیکھ بھی چکے ہیں جن میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شیخ عبداللہ خاندان،  عذاب کشمیر کے خود ساختہ  قائد ملت، مجائد اول اور سالار جمہوریت کے خاندانوں کا حشر ہے۔ فطرت نے خود میں ابھی اور بھی بے شمار حقائق چھپا رکھے ہیں جو یہ مجرم بستی دیکھ کر رہے گی۔ بشرطیکہ کہ یہ اپنی اصلاح کر لے۔