طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ پہلی بار منظر عام پر

  • اتوار 31 / اکتوبر / 2021
  • 4520

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد پہلی مرتبہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ منظرِ عام پر آئے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔

دوسری جانب طالبان اپنی حکومت کو تسلیم کرانے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔ طالبان نے ہفتے کو کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں ان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنا ملک میں مختلف بحرانوں کو طول دے گا اور بالآخر یہ دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق طالبان حکام نے ملا ہیبت اللہ کے منظر عام پر آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کو ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دارالعلوم حکیمہ مدرسے کا دورہ کیا اور اپنے بہادر سپاہیوں اور شاگردوں سے خطاب کیا۔

ملا ہیبت اللہ کے دورے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور تقریب کی کوئی تصاویر یا ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ البتہ طالبان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان کی دس منٹ کی آڈیو ریکارڈنگ شیئر کی ہے۔ اخوندزادہ سال 2016 سے طالبان کے سربراہ ہیں لیکن وہ عوامی منظرنامے سے غائب رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگست میں طالبان کے افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی وہ منظر عام پر نہیں آئے تھے۔

طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک مختلف بحرانوں کا شکار ہے۔ وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتے کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ موجودہ نظام کو تسلیم کرنا افغانستان کے عوام کا حق ہے اور کوئی بھی ہمیں اس حق سے محروم نہیں رکھ سکتا نہ ہی اس سے کسی کو فائدہ ہو گا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمارا امریکہ کو پیغام ہے کہ اگر تسلیم نہ کرنے کا عمل طول پکڑے گا تو افغانستان کے مسائل طول پکڑیں گے، یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے جو بالآخر دنیا کے لیے ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں قطر میں ہونے والی ملاقات میں طالبان قیادت نے یہی پیغام امریکی حکام کو دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ اس پر غور کریں گے اور اللہ نے چاہا تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے بیرون ملک افغانستان کے اثاثوں کو بحال کرنے کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 20 برس قبل امریکہ اور طالبان کی جنگ کی وجہ دوطرفہ سفارتی تعلقات کا نہ ہونا اور اس وقت کی طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنا تھی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے واشنگٹن سے کابل میں امریکی سفارت خانے دوبارہ کھولنے اور معمول کی سفارتی سرگرمیاں بحال کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیوں کے حقوق سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مختلف افغان صوبوں میں لڑکیاں اسکولوں کو واپس آچکی ہیں اور ملک کے دیگر علاقوں میں یہ مسئلہ آہستہ آہستہ حل ہو رہا ہے۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ ہم غیرملکیوں کو یہ حق نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں ہدایت دیں کہ کس طرح ہماری لڑکیوں کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں۔یہ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

ترجمان طالبان کے مطابق  ہم عالمی برادری کا حصہ ہیں اور ہم نے اپنی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرانے کے لیے دنیا کو درکار تمام شرائط کو پورا کردیا ہے۔

اس دوران اقوامِ متحدہ کی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس ہفتے انسانی ضروریات غیرمعمولی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ چار کروڑ آبادی والے ملک میں نومبر کے آخر تک نصف سے زیادہ لوگ خوراک کی شدید کمی کا سامنا کر سکتے ہیں۔