ٹی ایل پی مظاہرین نے جی ٹی روڈ کھول دی، سعد رضوی کی رہائی تک وزیر آباد میں دھرنا جاری

  • سوموار 01 / نومبر / 2021
  • 5060

کالعدم تحریک لیبک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے حکومت سے معاہدے کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ مؤخر کردیا ہے لیکن وزیرآباد میں دھرنا جاری ہے۔

حکومت سے معاہدے کے بعد ٹی ایل پی کے کارنوں نے گرینڈ ٹرنک(جی ٹی) روڈ اور اللہ والا چوک خالی کردیا تاہم انہوں نے قریبی ریلوے گراؤنڈ میں خیمے لگا دیے ہیں اور کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک سعد رضوی کو رہا نہیں کیا جاتا۔ راستےکھولنے سے اندرون وزیر آباد سے سیالکوٹ اور گجرات جانے والی ٹریفک بحال ہو گئی اور چناب ٹول پلازہ کے دونوں اطراف پولیس اور رینجرز تعینات ہیں اور راستہ تاحال بحال نہیں ہوسکا۔

سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اعلیٰ حکام کی اجازت کےبعد جی ٹی روڈ چناب ٹول پلازہ پر بنائی گئیں خندقیں بند کریں گے اور رکاوٹوں کو ہٹادیا جائے گا۔ تاحال جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی بالکل معطل ہے اور مسافر و مال بردار گاڑیاں روڈ پر پھنسی ہوئی ہیں گجرات اور وزیرآباد کا زمینی رابطہ منقطع ہے اور انٹرنیٹ سروس بھی تاحال بحال نہ ہوسکی۔

دوسری جانب لاہور میں وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی سربراہی میں معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں علی محمد خان نے کہا کہ جی ٹی روڈ کلیئر کردی گئی ہے اور ٹی ایل پی کے کارکن معاہدے کے مطابق راستہ ٹریفک کے لیے کھولتے ہوئے وزیر آباد میں قریبی گراؤنڈ پر منتقل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ٹی ایل پی کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے وعدے پر عمل کیا اور حکومت بھی گزشتہ رات سے اپنی طرف سے معاہدے پر عمل کر رہی ہے۔ علی محمد خان نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ ظفرعلی خان چوک سے اللہ ہو چوک تک روڑ کھول دیا گیا ہے اور اب ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق ہےاور روڈ بلاک کرنے کی اب کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ احتجاج ایک کھلے اور خالی گراؤنڈ منتقل ہوگیا ہے۔

گزشتہ روز حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ ان کا معاہدہ ہو گیا ہے لیکن معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا تھا۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات آئندہ ہفتے سامنے آجائیں گی جبکہ معاملات کی نگرانی کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور کریں گے۔