عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں امریکہ کے وعدے

  • منگل 02 / نومبر / 2021
  • 4150

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے 2050 تک ملک کو کاربن فری بنانے کا وعدہ کیا ہے۔  اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے یہ اعلان کیا۔

امریکہ کے منصوبوں میں ہوا، شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست قابلِ تجدید ذرائع پر انحصار کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جب کہ الیکٹرک گاڑیوں اور ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی اس منصوبے میں شامل ہے۔

دنیا کے درجنوں ممالک 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک جاری رہنے والی اس سی او پی 26 کانفرنس میں دنیا کے مجموعی درجۂ حرارت کو کم رکھنے سمیت آب و ہوا کو صاف رکھنے کے لیے وعدے کر رہے ہیں۔ امریکہ کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں صنعتوں کے فضلات اور ایندھن جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے اثرات کا پوری دنیا کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ کے علاوہ چین، بھارت اور روس بھی اُن ممالک میں شامل ہیں جہاں ماحولیاتی آلودگی دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

پیر کو امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے پیش کیے گئے منصوبے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ امریکہ 2030 تک کاربن کے اخراج میں 50 فی صد کمی لا کر اسے 2005 سے قبل کی سطح پر لائے گا۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ان اقدامات سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ نہ صرف امریکہ پیرس معاہدے میں واپس آ چکا ہے بلکہ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے مشن میں پیش پیش ہو گا۔

خیال رہے کہ 2015 میں دنیا کے بڑے ممالک نے پیرس میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں دنیا کا درجۂ حرارت صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت سے ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ سے اوپر رکھنے کی کوششوں پر اتفاق ہوا تھا۔ البتہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے الگ ہو گئے تھے جب کہ بائیڈن نے حلف اُٹھانے کے فوری بعد اس معاہدے میں واپسی کا اعلان کر دیا تھا۔

دنیا کے بڑے ممالک نے 2050 تک کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ماحول کے لیے نقصان دہ دیگر گرین ہاؤسز گیسز کا اخراج بتدریج کم کر کے 2050 تک اسے صفر پر لانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں ایندھن جلانے پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے ماحول دوست ذرائع کو ترجیح دینے پر کام ہو رہا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے آب و ہوا کی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے یہ منصوبہ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب حکمراں جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی نے اس ضمن میں 555 ارب ڈالرز کا بل جمعرات کو کانگریس میں پیش کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بل منظور ہو گیا تو آب و ہوا کی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج ہو گا۔

بائیڈن نے مجوزہ بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی جانب سے آب و ہوا کی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سب سے بڑی کاوش ہے۔ اس پیکج میں ہوا، شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست توانائی کے ذرائع استعمال کرنے والی صنعتوں کو ٹیکس کی مد میں 300 ارب ڈالرز سے زائد تک کی چھوٹ دی جائے گی۔

کانفرنس کے دوران امریکی صدر کے ماحولیات سے متعلق مشیر جان کیری نے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع کو بروئے کار لانے کے لیے کلین ہائیڈرجن منصوبے پر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُن کے بقول امریکہ انڈونیشیا میں جنگلات کی کٹائی روکنے اور بھارت میں بھی توانائی کے قابلِ تجدید ذرائع کے منصوبوں پر کام کرے گا۔