حکومت پنجاب نے ٹی ایل پی کے 800 سے زائد کارکن رہا کردیے
- منگل 02 / نومبر / 2021
- 3070
حکومت پنجاب نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے 800 سے زائد کارکن کردیے ہیں۔ یہ رہائیاں ٹی ایل پی کے ستاھ طے پانے والے معاہدے کے بعد عمل میں آئی ہیں۔
پنجاب کے وزیر قانون اور پارلیمانی امور راجا بشارت نے بتایا ہے کہ رہا کیے گئے افراد میں وہ شامل ہیں جو 12 ربیع الاول کو شروع ہونے والے احتجاج پر چھاپوں کے دوران حراست میں لیے گئے تھے۔ ان کو اسکروٹنی کے بعد رہا کیا گیا ہے اور جن کارکنوں کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی ہے انہیں عدالت سے ضمانت حاصل کرنی پڑے گی۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ ٹی ایل پی کے وہ کارکن جنہیں ایم پی او 1960 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا وہ رہا ہوں گے یا نہیں۔ خیال رہے کہ ٹی ایل پی نے سربراہ حافظ سعد رضوی کی رہائی کے لیے 20 اکتوبر کو لاہور میں احتجاج شروع کیا تھا، جنہیں 12 اپریل کو حکومت پنجاب کی جانب سے ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
تاہم ٹی ایل پی کے رہنما پیر اجمل قادری نے بعد میں کہا تھا کہ یہ اقدام پیغمبر اسلامﷺ کے احترام کے لیے تھا جبکہ سعد رضوی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لاہور میں تین روز تک پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے 22 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کردیا تھا، اسی دوران لاہور، گوجرانوالا اور گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ میں 5 پولیس اہلکار شہید اور دونوں اطراف سے کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ٹی ایل پی کی قیادت نے 30 اکتوبر کو اپنے کارکنوں کو وزیر آباد میں مزید احکامات تک انتظار کرنے کی ہدایت کی تھی اور دوسری طرف حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے تھے۔
اتوار کو حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ ان کا معاہدہ ہوگیا ہے لیکن تفصیلات بتانے سے انکار کیا تھا۔ مذاکرات میں دیگر علمائے کرام کے ساتھ کلیدی کردار ادا کرنے والے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر عام کردی جائیں گی۔
ذرائع کےمطابق حکومت نے ٹی ایل پی قیادت کو یقین دلایا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم کے اکاؤنٹس اور اثاثے بحال کردیے جائیں گے اور حکومت، ٹی ایل پی قیادت اور کارکنوں کے خلاف معمولی کیسز جاری نہیں رکھے گی لیکن انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔