بزم ادب برلن کے زیر اہتمام ادبی تقریب
- منگل 02 / نومبر / 2021
- 15130
رپورٹ: مطیع اللہ، برلن جرمنی
گزشتہ دنوں جرمنی کے میڈیا سٹی بابلز برگ میں ریستوراں کشمیر ہاؤس اور بزم ادب برلن کی جانب سے شاعر عامر عزیز کے اولین شعری مجموعے “ قندیل جلائے رکھنا “ کی تقریب رونمائی اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں جرمنی کے شہر برلن، ٹیلٹو ،پوٹسڈام اور بابلز بیرگ سے شعراء و ادبا کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق و شوق رکھنے والے احباب نے شرکت کی۔ یہ تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلے حصے میں شعری مجموعے کا اجراء اور دوسرے حصے میں مشاعرہ ترتیب دیا گیا تھا۔ تقریب کے پہلے حصے کی صدارت ایرلانگن یونیورسٹی جرمنی کے شعبہ تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر گارڈین یونکرنے کی اور
نظامت کی ذمہ داری بزم ادب برلن کے سیکریٹری معروف افسانہ و ناول نگار سرور غزالی نے کی۔ انہوں نے پروگرام کے آغاز میں بزم ادب برلن کی مختصر تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ برلن کی وہ ادبی جماعت ہے جہاں برلن میں ہمیشہ نئے آنے ادیبوں اور شاعروں کو خوش آمدید کہا گیا ہے اور انہیں بزم ادب کی تقریبات میں اپنی ادبی صلاحیتوں اور شعری صفات کا بھرپور مظاہرہ کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
انہوں نے عامر عزیز کے شعری مجموعے “ قندیل جلائے رکھنا” پر اپنا ایک مختصر تعارفی مضمون پیش کیا اور بعد ازاں تنظیم کی خازن ڈاکٹر عشرت معین سیما اور اردو انجمن برلن کے نائب صدر جناب انور ظہیر رہبر کو کتاب پر تبصرے کے لیے باری باری مدعو کیا۔ عشرت معین سیما نے کتاب کے اجراء پر جناب عامر عزیز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عامر عزیز برلن کے ادبی افق پر ایک روشن ستارا بن کر نمودار ہوئے ہیں۔ اُن کے شعری مجموعےمیں جن مضامین کو اشعار کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے وہ عہد حاضر کے اہم مسائل اور اُن کے حل کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
انور ظہیر رہبر نے عامر عزیز کے اولین مجموعے پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ عامر عزیز ایک اچھے افسانہ نگار بھی ہیں اور حالیہ دنوں میں آنے والے جرمنی کے افسانہ نگاروں کے تعارف اور ان کے افسانوں پر مبنی کتاب میں اُن کے افسانے بھی شامل ہیں۔ اُن کی شاعری کا یہ مجموعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جرمنی میں اور خاص طور پر برلن میں اردو کتاب کی اشاعت کا یہ سلسلہ درحقیقت اردو ادب و زبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور زبان کے فروغ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
تقریب کی صدر ڈاکٹر گارڈین یونکر نے اپنے صدارتی خطبے میں عامر عزیز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی یورپ میں مقبولیت اور لوگوں کی توجہ اس زبان کے لسانی اور سماجی پہلوؤں سے وابستہ ہے۔ اردو امن ومضطرب کی زبان ہے اور اپنے پس منظر میں عربی، فارسی اور دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ قدیم یونانی، اطالوی اور لاطینی زبان کے مماثل الفاظ و صوت سے مزین ہے، اس لیے اردو زبان کا عالمی زبان میں ایک اہم مقام ہے۔
بزم ادب برلن کے صدر معروف شاعر جناب علی حیدر عابدی نے تقریب کے پہلے حصے کے اختتام پر کشمیر ہاؤس ریستوراں کے مالک جناب عنصر بٹ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور عامر عزیز کو مبارکباد دیتے ہوئے کتاب کی رونمائی تمام شرکاء کے سامنے معزز مہمانِ خصوصی کے ساتھ مل کرانجام دی ۔ جس کے بعد عامر عزیز نے اپنی کتاب سے چیدہ چیدہ کلام حاضرین کے سامنے پیش کیا جسے بہت سراہا گیا ۔
کتاب کی رونمائی کے بعد عامر عزیز کو گلدستے پیش کئے گئے جب کہ انہوں نے کشمیر ہاؤس کی مالک عنصر بٹ کو ایک قرآنی آیات کی خطاطی کا تحفہ پیش کیا۔ بعد ازاں شاعر نے اپنی کتاب شرکاء میں اپنے دستخط کے ساتھ بطور تحفہ تقسیم کیں۔
تقریب کے دوسرے حصے مشاعرے کی صدارت معروف شاعر و افسانہ نگار رشی خان نے کی جب کہ نظامت کے فرائض بدستور سرور غزالی نے انجام دیے۔ مشاعرے کا آغاز عشرت معین سیما نے حمد سے کیا جس کے بعد دیگر شعراء و شاعرات نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے میں جن شعراء و شاعرات نے حصہ لیا اُن کے نام اور اشعار ذیل میں درج ہیں:
ریاض لاہوری:
دیر کردی بہت ریاض آتے آتے
سمیٹی محبت مگر جاتے جاتے
مایا حیدر:
اُس ذاتِ پاک نے دیا لکھنے کا ہُنر بھی
راہِ سُخن میں اُردو کے شاہکار ملے ہیں
عشرت معین سیما:
دعائے نیم شبی نور بن کے پھیل گئی
فلک پہ ابر کا اک قافلہ بناتے ہوئے
انور ظہیر رہبر :
نہ لگاتے اسے دنیا ترے ہنگام میں گر
برا ہوتا بڑا انجام ہمارے دل کا
علی حیدر وفا:
میرے غم کے غم میں تو غمگین نہ ہو اے غمگسار
میں بنا ہوں غم کی خاطر ، غم بنا میرے لیے
عامر عزیز:
اکثر سوچتا ہوں یہ محل کیسے بناؤں گا عزیز
مٹی پتھر گارا ہے میسر روح کہاں سے لاؤں گا
رشی خان :
ہاتھ پر رنگ تو تتلی کے ابھی ہیں تازہ
جسم بچوں کی تھکن اوڑھ کے سونا چاہے
کرونا وبا کی صورتحال کے پیش نظر تقریب میں تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ تقریب میں عامر عزیز کے اہل خانہ سمیت برلن کی تمام معزز کاروباری و سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ صحافی برادری سے جناب پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر ظہور احمد نے بھی شرکت کی اور محفل کو کامیاب بنایا۔