طاقت کے سامنے لرزہ براندام سول حکومت
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 02 / نومبر / 2021
- 11240
حکومت دھڑا دھڑ احتجاج کے دوران تحریک لبیک پاکستان کے گرفتار کئے گئے لوگوں کو رہا کررہی ہے۔ لیکن اتنی ہی عجلت سے یہ اصرار بھی کیا جارہا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمات قائم ہوئے ہیں، انہیں عدالتوں سے ضمانتیں لینا ہوں گی۔ البتہ حکومتی نمائیندے یہ نہیں بتاتے کہ ان ضمانتوں کا اہتمام بھی سرکاری ادارے ہی کریں گے۔ استغاثہ جب کسی مقدمہ کی پیروی سے منحرف ہوجائے گا تو کون سی عدالت کسی ملزم کو قید رکھ سکے گی؟
پنجاب کے وزیر قانون اور ٹی ایل پی کے حکومت کے ساتھ ’خفیہ معاہدہ‘ پر عمل درآمد کے لئے بنائی گئی اسٹئیرنگ کمیٹی کے رکن راجہ بشارت نے بتایاہے کہ اب تک 860 افراد کو رہا کیا جاچکا ہے اور سینکڑوں مزید آئیندہ چند گھنٹوں میں رہا ہوسکتے ہیں۔ رہائیوں کے عمل سے جانا جا سکتا ہے کہ تحریک لبیک نے اس معاہدے کے ذریعے سب سے بڑی کون سی کامیابی حاصل کی ہے۔ البتہ ابھی تک یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ حکومت کو اس خفیہ معاہدے سے کیا ملا ہے۔ کامیابی کا ایک اقرار البتہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز تحریک انصاف کی کور کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ملک میں خوں ریزی اور تصادم نہیں چاہتا اور ہر مسئلہ کو سیاسی افہام و تفہیم سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہوں‘ ۔ اس بیان کی روشنی میں یہ مانا جاسکتا ہے کہ حکومت نے مفتی منیب الرحمان کی سیادت کو قبول کرکے اور ٹی ایل پی کی تمام شرائط پر سر تسلیم خم کرکے دراصل ایک ’تصادم ‘ سے اجتناب کا راستہ تلاش کیا ہے۔
ہر مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرنے کی خواہش کے بارے میں اس دعوے کو اگر موجودہ حکومت کے گزشتہ تین برس کے دوران اختیار کئے گئے طرز عمل کی روشنی میں پرکھا جائے یا پھر تحریک لبیک کے دھرنے کے دوران وزیروں کے پرجوش بیانات کی روشنی میں جانچا جائے تو بدقسمتی سے وزیر اعظم کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ حکومت کے تمام نمایاں نمائیندے اتوار کو خفیہ معاہدہ ہونے سے قبل ریاستی رٹ قائم کرنے اور کسی بھی قیمت پر تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو روکنے اور دھرنا دینے کے منصوبے کو ناکام بنانے کے دعوے کررہے تھے۔ ان بیانات میں یہ بھی یاد دلایا جاتا تھا کہ کوئی بھی شخص یاگروہ ریاست کو کمزور نہ سمجھے۔ ریاستی قوت کسی بھی وقت شر پسند عناصر کا سر کچل سکتی ہے۔ ان دعوؤں کے ثبوت میں میڈیا نے دریائے جہلم پر رینجرز کی مورچہ بندی کی تفصیلات پیش کیں اور ان بینرز کی تصاویر عام کی گئیں جن میں رینجرز نے مظاہرین کو متنبہ کیا تھا کہ اب حکومت نے امن و امان کی ذمہ داری رینجرز کے سپرد کردی ہے اور انہیں شرپسندوں کو گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے اس لئے لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔
اہل پاکستان نے دیکھا کہ لانگ مارچ کے شرکا تو گھروں کو نہیں گئے لیکن حکومت نے بریلوی علما کو ثالثین اور ضامنوں کے طور پر اس تنازعہ میں ڈال کر اسی تنظیم سے ’بقائے باہمی ‘ کا ایک خفیہ معاہدہ کرلیا جو کسی دوسرے کو اپنی مرضی سے جینے کا حق دینے سے انکار کرتی ہے۔ اب وفاقی وزرا کو بیان بازی سے روک دیا گیا ہے اور وزیر اعظم اس شرمناک انتظامی ہزیمت کو سیاسی مصلحت اور امن پسندی کا نام دے کر ’سرخرو ‘ ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ معاہدہ تو ہوگیا البتہ حکومت نے اس کی جو قیمت ادا کی ہے، اس کا کچھ اندازہ حکومتی اتھارٹی کی ناکامی کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے اور کچھ کا اظہار ان شرپسندوں کی رہائی بلکہ عزت افزائی کی صورت میں ہو رہا ہے جو گزشتہ دو ہفتے کے احتجاج کے دوران درجن کے لگ بھگ پولیس افسروں کی ہلاکت اور سینکڑوں اہلکاروں کو زخمی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
اس معاہدہ کے سب سے بڑے ضامن مفتی منیب الرحمان جو معاہدہ کو خفیہ رکھنے کو بڑی کامیابی قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں یا حکومت جو ایک تنازعہ کے پر امن حل پر اطمینان کا اظہار کررہی ہے، یکساں طور سے بے موت مارے جانے والے پولیس افسروں کے قاتلوں کے بارے میں کوئی بات کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ پولیس فورس کے یہ اہلکار ایک گروہ اور حکومتی فورسز کے درمیان تنازعہ میں ڈیوٹی کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے ہیں۔ کوئی بھی ذمہ دار حکومت احتجاجی مظاہرین کے ساتھ تصفیہ کرتے ہوئے اپنے جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کے قاتلوں کو معاف کرنے کا وعدہ نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ واضح کرے کہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبے ماننے کے باوجود اس گروہ میں شامل ایسے لوگوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا جو پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور انہیں ہلاک و زخمی کرنے میں ملوث تھے۔ اس بارے میں تکلیف دہ خاموشی حکومت کی بے بسی اور پولیس فورس کی لاچارگی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ مستقبل میں جب بھی احتجاج یا تصادم کی صورت پیدا ہوگی تو پولیس فورس کو یاد رہے گا کہ حکومت نے ان کے ساتھیوں کا خون ازراں کیا تھا اور نام نہاد فساد ختم کرنے کے لئے قاتلوں سے درگزر کر کیا گیا تھا۔ حالانکہ سرکاری طور سے یہ اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو براہ راست فائیرنگ کرکے ہلاک و زخمی کیا تھا۔
آج ہی پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ چند روز پہلے غائب ہوجانے والے ایک پولیس اہلکار عدنان بٹ کی تشدد شدہ لاش وزیر آباد کے قریب کھیتوں سے ملی ہے۔ انہیں مبینہ طور پر لانگ مارچ کے دوران تحریک لبیک کے مظاہرین نے اغوا کیا تھا اور پھر غیر انسانی تشدد کرکے انہیں ہلاک کردیا گیا اور لاش کو کھیتوں میں پھینک دیا گیا۔ ایسے المناک سانحہ پر نام نہاد مذہبی رہنما اور ملک کے انتظام اور شہریوں کے جان و مال کی ذمہ دار حکومت نے مصلحت آمیز خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس خاموشی سے نہ صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ اس ملک کی حکومت بے بس اور اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے بے خبر ہے بلکہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مذہب کو اپنے گروہی، فرقہ وارانہ اور ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنے والے مذہبی لیڈروں کو بھی انسانی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ کسی ایسے قانون کو نہیں مانتے جو ان کے درپردہ مقاصد میں رکاوٹ بنتا ہو۔ کل رات مفتی منیب الرحمان نے تحریک لبیک کی وکالت کرتے ہوئے وزیروں کے علاوہ میڈیا کے کارکنوں اور ملک کے لبرل عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ اب ایک پولیس اہلکار کی تشدد شدہ لاش ملنے کے بعد اگر وہ مسلسل خاموش رہتے ہیں اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کا عہد نہیں کرتے تو ان کی اس بات کا یقین نہیں کیا جاسکے گا کہ انہوں نے کسی ذاتی مفاد سے بالا ہوکر محض انسانوں کی بھلائی اور دین کی سربلندی کے لئے حکومت اور ٹی ایل پی کا معاہدہ کروایا تھا۔
حالیہ تنازعہ اور اس کے ’پر امن ‘ حل کے بعد ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ ملک کی منتخب سول حکومت دراصل ریاست پاکستان کی نمائیندہ نہیں ہے۔ اسی لئے ریاست کی سلامتی کا ذمہ دار ادارہ اس کی پشت پر کھڑا ہونے اور سیاسی قیادت کے حکم پر عمل کرنے کی بجائے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس اور دوبدو ملاقاتوں میں ’تصادم سے گریز‘ کا مشورہ دیتا ہے۔ اس بار چونکہ آرمی چیف نے اپنے ترجمان کے ذریعے منتخب حکومت کو لانگ مارچ کے شرکا سے پر امن طریقے سے معاملہ طے کرنے کا مشورہ نہیں دیا تھا ، اس لئے بعض ستم ظریف تبصرہ نگار اسے بھی عمران خان کو دی گئی ایک بڑی ’رعایت‘ قرار دے رہے ہیں۔ البتہ یہ کسر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ مفتی منیب الرحمان اور مولانا بشیر فاروقی کی تصویر جاری کرکے پوری کردی گئی ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ ’ایک پیج ‘ کی باقیات کے بارے میں کسی خوش فہمی کو عام کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔
مولانا محمد بشیر فاروقی نے اس ملاقات اور لانگ مارچ ختم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’ آرمی چیف کے بغیر معاملہ حل ہونا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے ایک بہترین کردار ادا کیا ہے۔ جس کو سب قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں‘۔ آرمی چیف نے یہ کردار ہوسکتا ہے خدا خوفی یا انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے ہی ادا کیا ہو لیکن ملک میں بااختیار منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے جب آرمی چیف کسی سول تنازعہ میں مداخلت کرتا ہے تو اس کے وقتی مثبت نتائج پر خوش ہونے کی بجائے اس کے طویل المدت اور دوررس اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس طرح ایک طرف تشدد اور احتجاج کے ذریعے ناجائز مطالبات پر حکومت کو دبانے والے گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو دوسری طرف یہ بات عام فہم تک پہنچتی ہے کہ اس ملک میں حکومت نہیں بلکہ آرمی چیف ہی حتمی فیصلے کرنے کا مجاز ہے اور اسی کا فرمایا ہؤا حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ طریقہ کار ملکی آئینی تقاضوں کے برعکس ہونے کے علاوہ ملکی نظم میں موجود دراڑ کو وسیع کرتا ہے۔
اس طریقہ کار سے ایک بار پھر یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ فوج کے علاوہ کوئی بھی ملکی مفاد اور ریاستی سلامتی کی ضرورتوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ عوام تک پہنچنے والا یہ پیغام براہ راست مارشل لا لگانے اور آئین و قانون کو نظر انداز کرکے فوجی آمریت قائم کرنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ پیغام ملک میں طوائف الملوکی کا نقشہ پیش کرتا ہے جس میں صرف ’زور آور ‘ ہی بخت آور ہے۔