پیٹرول مہنگا کرنا پڑے گا لیکن غریبوں کو ریلیف پیکیج ملیں گے: وزیر اعظم

  • بدھ 03 / نومبر / 2021
  • 3320

وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ عوام پیٹرول مزیدمہنگا خریدنے کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا پڑے گی کیونکہ ہمارا خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔

 قرضوں میں سود کی مد میں پہلے ہی خسارہ ہے اور میں آج آپ کو کہہ رہا ہوں پیٹرول کی قیمت بڑھانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب بڑا ’فلاحی پروگرام‘ پیش کررہے ہیں، اس پروگرام کا مقصد ملک کو فلاحی ریاست کی جانب ایک قدم ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے احساس پروگرام کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تین برس میں تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا کیونکہ ڈیٹا کے بغیر سبسڈی دینا آسان کام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ہمیں پاکستان ملا تب پاکستان کا خسارہ سب سے زیادہ تھا، قرضے بھی سب سے زیادہ تھے اور سود بھی ان قرضوں پر سب سے زیادہ دینا پڑا۔

وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی،ان کے تعاون کی وجہ سے دیوالیہ ہونے سے بچے ورنہ بہت مہنگائی ہوتی۔ ہمارے پاس اتنے ڈالر نہیں تھے جس کی وجہ سے ہمیں عالمی مالیاتی فنڈ سے رابطہ کرنا پڑا، ہم شروع کے ایک سال معیشت کو مستحکم کرنے میں لگے رہے اور اتنے میں کورونا وبا کا آغاز ہوگیا۔

عمران خان نے کہا کہ گزشتہ 100 برس میں اتنا بحران پیدا نہیں ہوا جتنا کورونا وبا سے صورتحال پیدا ہوئی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کے ممالک متاثر ہوئے اور اس مرحلے میں این سی او سی نے نمایاں کردار ادا کیا اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے معاشی سرگرمیاں محدود پیمانے پر جاری رہیں۔ کورونا سے نمٹنے کے لیے ہم نے 8 ارب ڈالر خرچ کیے۔ میڈیا کو چاہیے وہ اپنی خبروں اور تجزیوں کا جائزہ لے کہ کیا ہماری حکومت کی وجہ سے مہنگائی بڑھی جبکہ پوری دنیامیں صورتحال مایوس کن تھی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 فیصد ہے جبکہ عالمی نشریاتی ادارے بلومبرگ کے مطابق اشیا ضروریہ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترکی میں مہنگائی 19 فیصد ہے، ترکی کی کرنسی 35 فیصد گراوٹ کا شکار ہے، امریکا اور یورپ میں 2008 کے بعد سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں موسم سرما آنے والا ہے اور ساتھ ہی گیس کا مسئلہ بھی جنم لے گا۔ امریکا میں قدرتی گیس کی قیمت میں تقریباً 116 فیصد اور یورپ میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان میں قدرتی گیس پر کوئی قیمت نہیں بڑھائی گئی۔ پاکستان میں درآمدی گیس پر قیمت بڑھانے پر مجبور ہیں، مہنگائی کا بھاؤ عالمی ہے جس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی سطح پر گزشتہ 4 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 فیصد بڑھ گئی ہے جبکہ ہمارے ملک میں اضافہ محض 33 فیصد رہا۔ عالمی سطح پر بڑھنے والی قیمتوں کے پیش نظر مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ کرتے تو 450 ارب روپے کا حکومت کو فائدہ پہنچتا لیکن ہم نے اپنے پیٹ کاٹے تاکہ لوگوں پر بوجھ نہ پڑے۔

لیکن اب پیٹرول کی قیمت بڑھانا پڑے گی، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو خسارہ بڑھ جائے گا اس لیے پیٹرول کی قیمت پھر بڑھانا پڑے گی۔ پھر بھی بھارت کے مقابلے میں ملک میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کم ہے۔ موسم سرماکے بعد سپلائی چین کی مکمل بحالی کے بعد قیمتوں میں غیرمعمولی فرق پڑے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 2 کروڑ لوگوں کے لیے ریلیف پیکج لے کر آرہےہیں جس سے 13 کروڑ پاکستانی مستفید ہوسکیں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر 120 ارب روپے کا ریلیف پیکج دے رہی ہیں۔ گھی، آٹا اور دالوں پر 30 فیصد سبسڈی دی جارہی ہے۔ سبسڈی آئندہ 6 ماہ تک ہوگی، اس کے علاوہ احساس کے 260 ارب روپے کے پروگرام فعال ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’کامیاب پاکستان‘ پروگرام کے تحت 1400 ارب روپے کی فنڈنگ رکھی ہے جس سے 40 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔ یہ سود کے بغیر قرض ہوں گے۔ 40 لاکھ خاندان کو گھر بنانے کے لیے بلا سود قرض دیے جائیں گے، کسان، کاروبارکرنے والوں کو 5 لاکھ روپے کا بلاسود قرض ملے گا جبکہ خاندان کے ایک فرد کو اسکلز ٹریننگ کرائی جا ئے گی تاکہ وہ ہنر مند ہو۔

عمران خان نے کہا کہ کامیاب پاکستان کے تحت 22 ہزار افراد کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے 30 ارب روپے دے چکے ہیں، 2 لاکھ لوگوں کو ہنر مند بنا رہے ہیں۔