وزیر اعظم سچ کے سوا کچھ نہیں بولتے
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 03 / نومبر / 2021
- 13420
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یوں تو بطور سیاست دان اور سربراہ حکومت متعدد ریکارڈ قائم کئے ہیں لیکن اپنی دیانت داری اور دوسروں کی دروغ گوئی کے بارے میں پروپیگنڈا کرنے کا جو فقید المثال ریکارڈ انہوں نے قائم کیا ہے، اسے شاید دنیا کا کوئی سیاست دان توڑ نہیں سکے گا۔ آج بھی قوم سے خطاب میں انہوں نے اپنی اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ پاکستان کا وزیر اعظم صرف سچ بولتا ہے ، انہوں نے قوم کو صاف صاف بتا دیا کہ پیٹرول مزید مہنگا ہوگا اور سردیوں میں گیس دستیاب نہیں ہوگی۔
اس پر مغز خطاب کی سب سے بڑی خوبی البتہ یہ تھی کہ وزیر اعظم نے امریکہ اور برطانیہ سے لے کر بھارت اور بنگلہ دیش تک میں اجناس کی قیمتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ جس چیز کی قیمت پاکستان میں صرف تیس چالیس فیصد بڑھتی ہے، اسی کی قیمت دوسرے ملکوں میں سو فیصد بلکہ بعض صورتوں میں تین سو فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں مہنگائی کے بارے میں اپوزیشن کی باتوں میں آنے کی بجائے خود قلم کاغذ لے کر حساب کرنا چاہئے کہ وہ کتنے فائدے میں ہیں۔
عمران خان نے براہ راست یہ تو نہیں کہا کہ اہل پاکستان کو یہ فائدہ صرف اس لئے ہؤا ہے کیوں کہ ایک دیانت دار شخص ملک کا وزیر اعظم ہے ۔ آخر بندہ کہاں تک خود اپنے منہ سے اپنی تعریف کرسکتا ہے، اس لئے انہوں نے میڈیا کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یہ سب باتیں عوام کو سمجھائیں اور جھوٹ پھیلانے سے گریز کریں۔ یوں بھی حکومت نے جیسے پاکستانی میڈیا کے ہاتھ پاؤں باندھے ہیں، اس کے بعد وزیر اعظم کا مشورہ حکم کا درجہ رکھتاہے ۔ اس لئے عوام جلد ہی یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ میڈیا اینکرز، یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا پر متحرک ’سینئیر صحافی‘ صحیح صحیح حساب لگا کر بتادیں گے کہ پاکستانی گھرانوں کو اگر آٹا 50 روپے کلو ملتا ہے تو ہمسایہ ملک میں اس کی کیا قیمت ہے اور دور دارز ملکوں میں اس کا کیا بھاؤ ہے۔ اسی طرح شکر، پیٹرول اور دیگر اشیائے صرف کا حساب بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس بے مقصدمشقت سے اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو لوگوں کو یہ تسلی تو ہوجائے گی ملک کا وزیر اعظم سچا ہے کیوں کہ اب تو میڈیا بھی یہ بتا رہا ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے ’سستا‘ ملک ہے۔
وزیر اعظم چوں کہ سچے انسان ہیں ، اسی لئے ملک میں اس ارزانی کا ذکر کرنے کے بعد یہاں پر مزدور کو ملنے والی اجرت کا حساب کرنا ضروری نہیں سمجھتے کیوں کہ اس طرح ان کے اتنے بڑے سچ کا پول کھل سکتا ہے اور عوام کو اپنے ہی دیانتد دار وزیر اعظم کی نیک نیتی پر شبہ ہونے لگے گا۔ البتہ اپنا ضمیر صاف رکھنے کے لئے انہوں نے ملک کے سیٹھوں اور صنعتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی مشکلات کا بھی کچھ خیال رکھیں اور اپنے کثیر منافع میں سے کچھ اپنے ملازمین میں تقسیم کیا کریں۔ عمران خان نے گمان کیاہوگا کہ ملک کے دیگر سیٹھ بھی میڈیا سیٹھوں کی طرح حکمرانوں کی چوکھٹ پر پیشانی ٹیکتے ہوئے وزیر اعظم کے مشورہ کو حکم کا درجہ دیں گے اور آناًفاناً ملک کے سب غریبوں کی آمدنی دو گنا یا سہ گنا ہوجائے گی۔ البتہ یہ حساب کتاب کرتے ہوئے وزیر اعظم بھول گئے کہ ان کی حکومت ملک کے شوگر مافیا، آٹا مافیا اور دیگر سیٹھ مافیا زکو کچل دینے کے اعلان کرنے کے باوجود متعدد مواقع پر خود ہی پسپا ہونے پر مجبور ہوئی ہے۔ سیٹھوں کی پیشانی پر بل پڑتے دیکھ کر حکومت کبھی ایف بی آر کا چئیرمین تبدیل کرتی ہے اور کبھی نیب آرڈی ننس میں ترمیم کرکے سرمایہ داروں کا احسان چکانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ جو تھوڑا بہت ٹیکس جمع ہوتا ہے ، حکومت کو اس سے بھی ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔
عمران خان ملک کے امیروں کو غریبوں کا خیال رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی بھول گئے کہ ان کے بتائے ہوئے حساب کتاب کی بھول بھلیوں میں بیچارے عوام تو شاید پریشان حالی میں بھی ایک نئے دھوکے میں آجائیں لیکن ملک کا سیٹھ حساب کتاب کا پکا ہے اور پوری تفصیل سے حساب لگا کر حکومت کے نمائیندوں کو بتا سکتا ہے کہ درحقیقت پاکستان میں کاروبار کرتے ہوئے انہیں کتنا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس صورت میں وزیر اعظم سیٹھوں کو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ جن کارکنوں کو منافع میں سے ’حصہ‘ دے رہے تھے، انہی کی تنخواہیں کم کرکے اپنا ’نقصان‘ بھی پورا کرلیں۔ اس لئے وہ اپنے وزیر یا مشیر خزانہ سے کہہ کر بیچارے سیٹھوں کو مزید سبسڈی دینے کا اہتمام کروائیں گے تاکہ ان بیچاروں کی دال روٹی بھی چلتی رہے اور آئی ایم ایف کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ پاکستانی حکومت کی اپنی آمدنی تو نہ ہونے کے برابر ہے لیکن مالیاتی فنڈ سے ’مانگنے‘ چلے آتی ہے ۔ پھر حکومت کو عوام پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعے یہ گلے شکوے دور کرنے پڑیں۔
بطور وزیر اعظم عمران خان کی اتھارٹی کا تماشہ پہلے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے معاملہ پر ایک طویل ڈرامہ سیریل کی صورت میں عوام کی تفریح طبع کے لئے اسٹیج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے گزشتہ دو ہفتے کے دوران نہ صرف وزیر اعظم کے اختیار اور حکومتی رٹ کا امتحان لیا بلکہ ان کے ایمان کے بارے میں بھی چند نئےسوالات پرچے میں شامل کردیے۔ اور ممتحن کے طور پر مفتی منیب الرحمان کو ’ضامن‘ کی حیثیت میں بیچ میں ڈال لیا گیا۔ اس کے بعد انگشت بدنداں پاکستانی قوم کے علاوہ ساری دنیا نے دیکھا کہ حکومتی اتھارٹی یوں سرپٹ بھاگی کہ اس کی لنگوٹی بھی کسی کے ہاتھ نہ آئی۔
ایک دن پہلے ریاست کی رٹ کو مذاق سمجھنے والوں کو دھمکیاں دینے والے شیخ رشید مراقبے میں چلے گئے اور قوم سے وزیر اعظم کے جس خطاب کے بارے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کم از کم ایک ہفتہ سے یہ فرما رہے تھے کہ اس خطاب میں عمران خان قوم کو بتائیں گے کہ مذہبی انتہا پسندی سے کبھی حرمت رسولﷺ کا تحفظ نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنانا پڑتی ہے یا بڑے بڑے عالمی فورمز پر جاکر تقریر یں کرنا پڑتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان بوجوہ عالمی فورمز پر جانے سے کنی کترا رہے ہیں۔ پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ’ورچوئیل‘ خطاب کرکے کام چلا لیا گیا تاکہ وہاں آئے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن کو ’شرمندگی‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے کیوں کہ وہ بیچارا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی آؤ بھگت میں مصروف تھا۔ اب وہ کہاں پاکستان کے دیانت دار ، شاندار وزیر اعظم کے لئے وقت نکالتا۔ اب اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں جانے سے گریز کیا گیا حالانکہ وہاں ایک سو سے زیادہ عالمی رہنما موجود تھے اور ان سے براہ راست ملاقات کا موقع دستیاب ہوسکتا تھا۔ اس غیر حاضری کا عذر غیر معمولی ملکی حالات کو قرار دیا گیا حالانکہ ان حالات کو غیر معمولی بنانے یا انہیں معمول پر لانے میں عمران خان کا کردار اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ انہیں ان معاملات کے بارے میں بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں ہیں۔
اگر انہیں ان کا ادراک ہوتا تو وہ قوم سے خطاب میں مہنگائی کا عذر پیش کرنے سے پہلے دوہفتے سے ملک میں جاری بحران اور ایک چھوٹے سے گروہ کے احتجاج اور لانگ مارچ کی صورت حال پر عوام کو اعتماد میں لیتے۔ یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی ذمہ دار سربراہ حکومت ایک شدید بحران سے بمشکل باہر نکلنے والے ان ملکی حالات کے بارے میں بات ہی کرنے سے گریز کرے، گویا ایسا کوئی معاملہ سرز د ہی نہیں ہؤا۔ عمران خان تمام تر ناکامیوں اور دشورایوں کے باوجود آج کے خطاب میں بھی شریف اور زرداری خاندان کی دولت کا ’حساب‘ لگانا تو نہیں بھولے اور یہ ’سچ‘ بھی عام کردیا کہ اگر یہ دو خاندان اپنی آدھی دولت بھی پاکستان لے آئیں تو وہ اشیائے صرف کی قیمتوں کو نصف کردیں گے۔ اب اس بہتان نما سچ کا حساب تو وہ خاندان کریں یا ان کے حامی اس کی تفصیل کو نتھارتے رہیں لیکن عام شہری ملک کے وزیر اعظم سے یہ توقع ضرور کرے گا کہ جو ملک سنگین مالی دباؤ اور معاشی پریشانی کا شکار ہے، اس میں ایک چھوٹے سے گروہ کو مذہب کے نام پر نہ صرف سرکاری اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا ’حق‘ دیا گیا ہے بلکہ اس احتجاج میں اربوں روپوں کی سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، کاروبار تباہ کئے گئے اور حکومت کو بے حساب وسائل اس لانگ مارچ کی روک تھام پر صرف کرنا پڑے۔ ملک کے سچے، پرہیزگار اور دیانتدار وزیر اعظم نے قوم کو یہ نہیں بتایا کہ قومی دولت اور ذرائع آمدن کو پہنچائے گئے اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ یا حرمت رسولﷺ کے نعرے کی برکت سے یہ نقصان، فائدے میں تبدیل ہوجائے گا؟
عمران خان کو خبر ہو کہ اپنے بارے میں سچا ہونے کا گمان کرنا بہت آسان ہے لیکن سچ بولنا اور اس کا سامنا کرنا سہل نہیں ہوتا۔ وہ جس مدینہ ریاست اور عہد عمر فاروق ؓکی جن روایات کا ذکر کرکے قوم کے جذبہ ایمانی کو گرماتے رہتے ہیں، اس میں خلیفہ وقت محل نما گھروں میں رہ کر عوا م کے مسائل سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ ان کے بیچ رہ کر ان کے دکھ درد بانٹتے تھے اور ان کے سانجھے دار تھے۔ عمران خان جب اس سانجھے داری کے قابل ہوں گے ، تب ہی وہ عوام کی تکلیفوں کو سمجھنے کے اہل ہوسکیں گے۔ ورنہ ایک سچ بولنے اور دس چھپانے کا نام دیانت داری نہیں ہوتا۔