امریکا نے پیگاسس جاسوسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کردیا
- جمعرات 04 / نومبر / 2021
- 3810
امریکا نے دنیا بھر کے کارکنوں، صحافیوں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور سیاستدانوں کے فون کی جاسوسی کے لیے پیگاسس سافٹ ویئر بنانے والی اسرائیلی کمپنی کو بلیک لسٹ کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسپائی ویئربنانے والی کمپنی این ایس او ان دنوں متنازع خبروں کی زد میں ہے۔ یو ایس کامرس ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیگاسس اسپائی ویئر سے غیر ملکی حکومتوں کو بین البراعظم جبر کرنے کے قابل بنایا ہے، یہ عمل آمرانہ حکومتوں کا طرز عمل ہے جو اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے اپنی خود مختار سرحدوں سے باہر مخالفین، صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
اسرائیلی کمپنی این ایس او نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجیز دہشت گردی اور جرائم روکنے کے لئے ہے۔ اس سے امریکی قومی سلامتی کے مفادات اور پالیسیوں کی حمایت ہوتی ہے۔ این ایس او کے ترجمان نے بتایا کہ ہم امریکی فیصلے کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ’ہماری مصنوعات کا غلط استعمال کرنے والی سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ متعدد رابطے ختم ہو گئے ہیں‘۔
واشنگٹن نے اسرائیلی کمپنی ’کینڈیئریو‘ کے ساتھ سنگاپور میں قائم کمپیوٹر سیکیورٹی انیشیٹو کنسلٹنسی اور روسی فرم ’پازیٹیو ٹیکنالوجیز‘کو بھی نشانہ بنایا جن پر ہیکنگ ٹولز کی اسمگلنگ کا الزام تھا۔