حکومتی قلابازی یا امن پسندی ؟

الحمدللہ اب ریاست مدینہ ثانی میں امن ہی امن اور خوشحالی ہی خوشحالی ہو گی کیونکہ کالعدم تحریک لبیک کے مبینہ دھرنوں کی دہشت کے خوف سے ہماری بیچاری کمزور حکومت جس طرح لرزہ براندام تھی یا اس کی نحیف ٹانگیں جس طرح کانپ رہی تھیں ان میں ایک طرح سے ٹھہراؤ آ گیا ہے۔

خدا بھلا کرے پیچھے رہ کر ایک ہزار فی صد رول ادا کرنے والے ناخدا کا، جس نے ڈوبتی ناؤ کوگیارہویں والے پیر کی طرح نہ صرف یہ کہ عین منجھدار سے باہر نکال لیا بلکہ اپنے محفوظ اثاثہ جات پر بھی کوئی خراش نہیں آنے دی ۔ حکومتی التجا پر رینجرز کو بلایا ضرور گیا مگر اپنے لوگوں پر گولی کیسے چلائی جا سکتی تھی ؟ خفیہ معاہدے کے مندرجات پر آنے سے پہلے اپوزیشن اور میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔ ن لیگ کے خلاف ایسے ہی دھرنے کے موقع پر موجود حکومتی کارندوں اور ان کے سونامی کھلاڑی نے جلتی پر تیل ڈالنے کیلئے جتنے بڑے بڑے ڈرم اٹھائے تھے، ان کی تصاویر اور ’’ولولہ انگیز‘‘ تقاریر عوامی حافظے میں محفوظ ہیں یا نہیں، میڈیا لائبریری میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ایسے لوگوں کے اسمائے گرامی تحریر کرنے کی کیا ضرورت ہے جو مذہبی جوش و جنون کی حمایت میں گلے پھاڑ رہے تھے۔ جبکہ ہماری موجودہ اپوزیشن اور میڈیا نے نہ صرف یہ کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی میں شرکت سے گریز کیا ہے بلکہ اپنے بیانات میں بھی تشدد یا شدت کی بجائے افہام وتفہیم پر زور دیا ہے ۔

اس کے بالمقابل ہم حکومتی طرز عمل یا قلابازیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان شخص سے لیکر پوری کابینہ کے مختلف چہروں تک، یوں پینترے بدلتے اور ٹامک ٹویاں مارتے دکھتے ہیں کہ ان کا اناڑی پن واضح کرنے کیلئے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی ہے ۔ رحمت اللعالمین ؐ اتھارٹی کے قیام میں کی گئی تقاریر سے لے کر خفیہ معاہدے کی آخری شقوں تک یوں لگ رہا تھا گویا کوئی بھونچال آیا ہوا تھا۔ اتنی بڑی کرسی پر براجمان ہو کر بھی ریاست مدینہ کے بارے میں یوں من گھڑت کہانیاں پروپیگنڈے کی صورت بیان کی جاتی ہیں جیسے بیان کرنے والا پرائمری کلاس کی اسلامیات کا سلیبس پڑھ کر آیا ہے اور ناظرین و سامعین کو جہلا یا بھیڑوں کا ریوڑ خیال کرتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ریاست مدینہ میں ترقی و تبادلے کا معیار تقویٰ یا فلاں کوالٹی تھی اور کبھی فرمایا جاتا ہے کہ کارکردگی بہتر نہ ہونے پر ریاست مدینہ کا خلیفہ، خالد بن ولیدؓ جیسے جرنیل کو ہٹا دیتا تھا۔

 اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کیلئے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے یا توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا حق کسی عام شخص کو بھی حاصل نہیں ہے چہ جائیکہ وہ حکومتی کمان پر فائز ہو ۔ کسی بھی شخص نے اگر اس دور کے عربستان کی ہسٹری کا کچھ بھی مطالعہ کر رکھا ہے، وہ اس امر سے آگہی رکھتا ہے کہ تب کے قبائلی دور میں عصر حاضر کا ریاستی تصور سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ ان کا اجتماعی یا سیاسی نظم قطعی مختلف نوعیت کا تھا بلکہ خود پرافٹ کے دور میں فوج کا ادارہ ہی سرے سے موجود نہیں تھا۔ رہ گئے حضرت خالد بن ولیدؓ ، ان کے ہٹائے جانے کی وجہ ان کی بری کارکردگی ہرگز نہ تھی دیگر وجوہ تھیں جن پر یہاں بحث بے محل خیال کی جائے گی۔ بہرحال پروپیگنڈہ میں دلربائی ڈھونڈنے والوں کو اس نوع کے متنازع مباحث سے احتراز کرنا چاہئے۔ جنہیں تحقیق کی شوق ہے لائبریریاں بھری پڑی ہیں، ہر نکتہ افرینی سمجھی جا سکتی ہے ۔

عرض مدعا تو محض اس قدر ہے کہ اس باوقار کرسی پر آپ جس طرح بھی متمکن ہوئے ہیں آپ اس کی ذمہ داریوں یا تقاضوں پر دھیان دیں۔ آپ کا کام جرمنی اور جاپان کی سرحدوں کو ملاتے ہوئے نیا جغرافیہ تشکیل دینا نہیں، نہ ہی یہ اظہار خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تاریخ میں کوئی حوالہ موجود تھا یا نہیں ۔ آپ کا کام عوامی دکھوں اور ان کی معاشی محرومیوں کو حل کرنا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری ، بیماری ، بے انصافی، بددیانتی اور ظلم و زیادتی پر کنٹرول کرتے ہوئے بائیس کروڑ عوام کی فلاح وبہبود ترقی و خوشحالی کیلئے ٹھوس اور نظر آنے والے اقدامات ہیں اور انہی حوالوں سے آپ کی کارکردگی کو ماپا جائے گا۔ آپ اگر اپنے اصل کام اور ذمہ داریوں پر دھیان دینے کی بجائے قوم کو ادھر ادھر کی کہانیوں میں الجھاتے ہیں، انہیں مذہبی اشتعال کی مزید گولیاں کھلاتے ہیں تو اس کا نتیجہ نہ صرف یہ کہ آپ کی حکومتی نااہلی کی صورت سامنے آئے گی بلکہ ملک میں مذہبی شدت پسندی، اشتعال اور منافرت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا جس کا یہ ملک متحمل نہیں ہو سکے گا ۔

ابھی اس حالیہ مذہبی دھرنے کے دوران آپ نے اور آپ کے وزرا نے جس طرح شدید نوعیت کے یوٹرن لئے ہیں اور بدترین قلابازیاں کھائی ہیں، کیا کسی ذمہ دار سیاسی حکومت میں اس طرح تھوک تھوک کر چاٹنے کی مثال ڈھونڈی جا سکتی ہے ؟ کالعدم تحریک لبیک کے متعلق کونسا گندا اور گھناؤنا الزام ہے جو عائد نہیں کیا گیا۔ انہیں عسکریت پسند، دہشت گرد اور قاتل کہا گیا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ میں سب سے گندا الزام ہوتا ہے را کا ایجنٹ، آپ کے وزرا نے کھلے بندوں اور واضح الفاظ میں انہیں انڈین ایجنٹ قرار دیا۔ یہ بھی کہا کہ ان کے جی ٹی روڈ پر دھرنے میں سینتیس کلاشنکوف بردار موجود ہیں جو پولیس کو سیدھی گولیاں مارتے ہیں۔ یوں کئی پولیس والے اپنی سرکاری ڈیوٹی سرانجام دینے کی پاداش میں بے دردی سے قتل کئے جا چکے ہیں۔ سینکڑوں زخمی ہیں۔ کہا گیا کہ آئین و قانون کے خلاف اٹھنے والوں یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ہم اپنے جوانوں کے خون کا سودا نہیں کریں گے وغیرہ وغیرہ مگر ڈراپ سین کیا ہوا ؟

بڑی اچھی بات ہے آپ امن کے متوالے ہیں۔ آپ اپنے بچوں کے قاتلوں کو بھی گلے لگانے کیلئے بے چین ہیں، تحریک لبیک کیا آپ تو تحریک طالبان کیلئے بھی اتنا چوڑا سینہ رکھتے ہیں کہ سروں سے فٹ بال کھیلنے والوں کو بھی آنکھوں میں بسانا چاہتے ہیں۔ البتہ اپنے سیاسی مخالفین کو نہیں چھوڑیں گے انہیں کیفر کردار تک پہنچا کر رہیں گے۔ اسی سوچ کے زیر اثر 13نکاتی خفیہ معاہدہ قبول کیا گیا ہے۔ اس وزیر کے دستخط کروائے گئے ہیں جو عالمی سطح پر دو چہروں کی پہچان رکھتا ہے۔ کتنی خوشی کی بات ہے کہ کالعدم تحریک کے پکڑے گئے 2095کارکن رہا کر دیے گئے ہیں، ان کے لیڈر کو بھی 98عدد فوجداری مقدمات کے باوجود جلد رہا کیا جا رہا ہے اور پنجاب کا انصافی صدر انہیں پھولوں کا گلدشتہ پیش کرنے کیلئے بے چین ہے کب وہ چھوٹیں اور کب یہ ان کے دولت خانے پر حاضری دیں۔ عنقریب کالعدم کا لیبل بھی ہٹا دیا جائے گا۔ دھرنا دینے والوں نے جو کچھ بھی کیا ہے سب کچھ معاف ہے ۔ عدالتوں میں جو مقدمات ہیں ان میں بھی سرکار پیش نہیں ہو گی۔ یوں مقدمات بھی ختم ہو جائیں گے، ہر طرف امن سلامتی کے ثمرات پھوٹیں گے۔ بلکہ اس معاہدے کی برکت سے بائیس میں منعقد ہونے و الے انتخابی معرکے کی سٹریٹیجی بھی طے ہو جائے گی جب ہر دو گروہوں کے نظریاتی دھارے ایک ہیں تو کیوں نہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئے ایک چھتری تلے الیکشن بھی لڑا جائے۔

درویش کا مشورہ ہے کہ اس نئے سیاسی یا انتخابی اتحاد میں پی پی کو بھی ضرور شامل کر لیا جائے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ پنجاب میں اس وقت ن لیگ پوری طرح دندنا رہی ہے حتیٰ کہ حکومتی ممبران اسمبلی بھی اندر خانے ن لیگ کے ٹکٹ کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا زور توڑنے کیلئے اور ون ٹو ون مقابلے کی مضبوط فضا تشکیل دینے کیلئے ضروری ہو گیا ہے کہ ہر دو تحریکوں کے ساتھ پی پی کی تحریک بھی شانہ بہ شانہ ہو جائے، چاہے پنجاب کی صدارت بیرسٹر صاحب کو دینی پڑے۔ ملک کا کیا ہے چاہے چیف جسٹس یہ کہتا پھرے کہ ہم تو ایک گٹر بنانے کے قابل بھی نہیں رہے انہیں یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ ملک کو اس حالت میں پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے ؟

رہ گئے وزیر اعظم کہلانے کے شوقین صاحب وہ بالکل سچے ہیں ان کی تقاریر سچائیوں کا شاہکار ہوتی ہیں۔ اردو دان جانتے ہیں کس نے کہا تھا کہ ’’ظالم گپ بھی ہانکتا ہے تو وحی لگتی ہے‘‘۔ فرماتے ہیں ہمسایہ ملکوں کی نسبت غربت بھی کم ہے اور مہنگائی بھی، رہ گیا تیل تو وہ بہت ہی سستا ہے۔ جی ہاں جب تک عوام کا تیل نہیں نکلتا تب تک ہر چیز سستی ہے۔ اور وہ اس قدر امن پسند ہیں کہ قومی مفاد میں ایک ہزار یوٹرن بھی لینے پڑیں تو بڑی بات نہیں کیونکہ ’’قومی مفاد‘‘ سے بڑی تو دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا میرے پاکستانیو! آپ نے پریشان نہیں ہونا۔