عارضی جنگ بندی کیلئے حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں مفاہمت

  • جمعہ 05 / نومبر / 2021
  • 5010

پاکستانی حکام  اور کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے درمیان عارضی مفاہمت ہوگئی ہے۔ یہ گروہ دو دہائی سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف رہا ہے۔

روزنامہ ڈان کے مطابق  ذرائع نے بتایا کہ ہے افغانستان کے جنوب مغربی صوبے خوست میں تقریباً دو ہفتوں سے فریقین کے درمیان براہ راست ہونے والی بات چیت جاری تھی۔ اس کے نتیجہ میں ملک بھر میں جنگ بندی کے لئے ایک عارضی مفاہمت ہوگئی ہے۔ اعتماد سازی کے لیے ٹی ٹی پی کے کچھ  جنگجوؤں کو رہا کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان کی حراست میں موجود کتنے عسکریت پسندوں کو رہا کیا جائے گا البتہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد 2 درجن سے زیادہ نہیں ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ معمولی جنگجو ہیں سینیئر یا درمیانی درجے کے کمانڈرز نہیں ہیں۔ ہم زمینی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور محتاط ہیں۔

ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر مزید کہا کہ جب زیر حراست افراد رہا ہوجائیں گے تو جنگ بندی پر عمل شروع ہوگا۔ عارضی طور پر کی جانے والی ایک ماہ کی جنگ بندی میں توسیع اس بات پر منحصر ہے کہ مذاکرات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔ یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کس نے کیے۔

ذرائع نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور دونوں فریقین کو آمنے سامنے بات چیت کے لیے ایک چھت تلے لے کر آئے۔ مذاکرات براہِ راست سینیئر افسران اور ٹی ٹی پی کی سینیئر قیادت کے درمیان ہوئے، جس میں ٹی ٹی پی کے تمام گروہ شامل تھے۔ اس ضمن میں بہت سی تجاویز پیش کی گئیں۔ فریقین قابل عمل حل نکالنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹی ٹی پی قیادت سے مذاکرات میں فی الوقت کسی قبائلی ثالث سے رابطہ نہیں کیا گیا، انہیں مناسب وقت پر شامل کیا جائے۔ یاد رہے کہ ایک ترک نیوز چینل کو گزشتہ ماہ انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بتایا تھا کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کررہی ہے تا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور معافی کے بدلے میں صلح کرکے عام شہریوں کی طرح زندگی گزاریں۔

تاہم ٹی ٹی پی نے عمران خان کی معافی کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اور اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ان کی جدوجہد پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام ملک میں حملوں میں اضافے کا حوالے دیتے ہوئے افغان طالبان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی کے اڈے بند کریں۔ افغانستان کا اقتدار سنبھالنے سے کچھ ہی عرصہ قبل تحریک طالبان نے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کر کے اسے پاکستان کے خلاف دشمنی بند کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایک تین رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

باخبر ذرائع نے کہا تھا کہ افغان طالبان کی قیادت قبائلی وابستگیوں اور افغانستان میں غیر ملکی قبضے کے خلاف ان کی مشترکہ لڑائی اور قربانیوں کے باعث طاقت کے استعمال سے گریزاں تھی۔ ٹی ٹی پی نے ابھی تک بات چیت یا فریقین کے درمیان طے پانے والی عارضی مفاہمت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔