احتساب، ترمیم اور سیاسی سمجھوتے
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 05 / نومبر / 2021
- 4230
پاکستان میں احتساب کا عمل ہمیشہ سے سیاسی سمجھوتوں، مصلحت پسندی، عدم شفافیت، مرضی کا احتسابی عمل سمیت کمزور ریاستی اور حکومتی سطح پر عدم ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں احتساب کے عمل میں جس تیزرفتاری سے معاملات سمیت اصلاحات کا عمل آگے بڑھنا چاہیے تھا اس کا ہر دور حکومت میں فقدان نظر آتا ہے۔
احتسابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نیب وہ کچھ نہیں کرسکا جو اس کی تشکیل کے مقاصد تھے۔ماضی کی دو بڑ ی حکومتوں جن میں پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن شامل ہیں نے عملی طور پر اس ادارے کو سیاسی و قانونی مفلوج بنادیا تھا۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت بھی وہ بڑے کام نہیں کرسکی جو شفاف احتساب کے عمل کو نئی سیاسی طاقت فراہم کرتے۔حالیہ دنوں میں نیب کے قانون میں تیسری بار ترمیم کی گئی ہے۔ اس سے قبل چھ اکتوبر کو دوسری ترمیم کی گئی تھی او رٹھیک ایک ماہ بعد ہی ہمیں نئی ترمیم کی ضرورت کیونکر محسوس ہوئی۔ دراصل دوسری ترمیم کے بعد فوری طور پر اس پر جو سیاسی، آئینی اور قانونی حلقوں میں ردعمل سامنے آیا تھا اس کے بقول نیب کے جو دو اہم دانت تھے دونوں کو نکال کر اسے لاچار کردیا گیا تھا۔ اول ملزم کو نوے دن تک حراست میں رکھنے کا اختیار جبکہ دوئم نیب عدالت کے پاس ضمانت کے اختیار کا نہ ہونا شامل تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ 6اکتوبر کی ترمیم پر نیب کے ادارے اورسربراہ کو بھی تحفظات تھے جس کا اظہار بھی کھل کر کیا گیا۔ حکومت اور حزب اختلاف نے نیب پر سیاسی سمجھوتہ کرکے احتساب کے عمل کو کمزور کیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ جو شدید تنقید کا پہلو 6اکتوبر کی ترمیم پر سامنے آیا تو اسی کو بنیاد بنا کر اب کچھ نئی ترمیم سے اس سیاسی تنقید کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نئی ترامیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نئی ترمیم میں نیب کے اس نقطہ کو تسلیم کرلیا گیا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں، مضاربہ، عوام کے ساتھ فراڈ، جعلی اکاؤنٹس او رمنی لانڈرنگ کے مقدمات نیب کو دوبارہ واپس کردیے گئے ہیں یا نیب کے ماتحت کردیے گئے ہیں۔اس ترمیم کے تحت یہ ہی امکان پیدا ہوا ہے کہ اب آصف زرداری، شہباز شریف، مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر اہم لوگوں کو بڑا ریلیف نہیں مل سکے گا۔ جبکہ دوسری ترمیم میں یہ امکان پید ہوا تھا کہ ان کو ریلیف مل سکتا تھا۔یہ ہی وجہ تھی کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں، عوام سے لوٹ مار کرنے والے اور خود آصف علی زرداری منی لانڈرنگ کے مقدمہ میں عدالتوں کے پاس پہنچ گئے کہ ان کو ریلیف دیا جائے کیونکہ نئی ترمیم کی وجہ سے ان کا مقدمہ اب کسی صورت نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔یہ ترمیم اس لحاظ سے عوامی مفاد میں اہم ہے کہ کیونکہ بہت سے لوگوں نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور دیگر منصوبوں کی بنیاد پر عوام سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی تھی۔
نیب کی تعریف کرنا ہوگی کہ حقیقی معنوں میں انہوں نے نہ صرف عوام کو ریلیف دیا بلکہ ان کی لوٹی ہوئی رقم بھی واپس دلوائی۔اسی نقطہ کی بنیاد پر نیب دعوی کرتا ہے کہ اس نے ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوٹی ہوئی رقم کی ریکوری کی ہے۔اس اختیار کادوبارہ نیب کو ملنا ایک لحاظ سے اہم اور اچھی ترمیم ہے جس کی حمایت ضروری ہے تاکہ لوگوں کو لوٹنے والوں کا احتساب ممکن ہوسکے۔اس سے قبل جو ترمیم کی گئی تھی یا آرڈنینس لایا گیا تھا اس سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ منی لانڈرنگ کے مقدمات کو نیب کے دائرہ اختیار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ اسی لیے نئی ترمیم کے ساتھ یہ واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمات نیب کے دائرہ اختیار میں ہی رہیں گے۔
نئی ترمیم میں سب سے زیاد ہ تنقید چیرمین نیب کو ہٹانے کے طریقہ کار پر سامنے آئی ہے۔ نئی ترمیم کے تحت چیرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کو دے دیا گیا ہے۔حکومت کے بقول چیرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار تو آئین میں موجود تھا البتہ ہٹانے کا طریقہ کار موجود نہیں تھا اور اس ترمیم سے اس ابہام کو دور کیا گیا ہے۔اس کے لیے وہی طریقہ کار رکھا گیا ہے جو سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کا موجود ہے، اس سے قبل جو ترمیم کی گئی تھی اس میں یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو دیا گیا تھا کہ وہ چیرمین نیب کو اسی بنیاد پر ہٹاسکتے ہیں جس بنیاد پر سپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاسکتا ہے۔تنقید یہ ہورہی ہے کہ جو اختیار صدر مملکت کو دیا گیا ہے وہ عملی طور پر وزیر اعظم کی مشاورت سے جڑا ہوگا اور چیرمین نیب کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جو وزیر اعظم کی خواہش کے برعکس ہو۔تنقید یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس نئی ترمیم سے چیرمین نیب کی آزادی محدود ہوگی اور وہ حکومتی یا وزیر اعظم کے کنٹرول میں زیادہ ہوگا۔ معروف قانون دان و سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے بقول آئین کی شق48/2کو دیکھیں تو اس میں کہیں نہیں لکھا کہ جو کام صد مملکت کے کرنے کے ہیں ان میں صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس یا مشاورت کا پابند نہیں۔ اسی طرح اگر سپریم جوڈیشل کونسل کو یہ اختیار دینا ہے تو پھر اس میں آئینی ترمیم درکار ہے او رویسے بھی یہ اس کا اختیار ہی نہیں کہ وہ نیب کے سربراہ کا احتساب کرے کیونکہ اس کا دائرہ کار اپنے ادارے کی جوابدہی کا پابند ہے، اس لیے حزب اختلاف کی تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔
ایک مسئلہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے نئی ترمیم پر تنقید کی صور ت میں سامنے آیا ہے۔ حزب اختلاف کے بقول ان کو اس نئی ترمیم کی مدد سے سیاسی انتقام یا سیاسی دیوار سے لگایا جائے گا اور حکومت نے اس ترمیم سے خود کو این ار او دیا ہے۔ اصل میں جس نقطہ پر سب سے زیادہ وایلا حزب اختلاف کی جانب سے مچایا جارہا ہے وہ 6اکتوبر سے پہلے کے تمام مقدمات نیب کے دائرہ اختیار میں رہیں گے جو عملی طور پر حزب اختلاف کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے ان پر مقدمات کی تلوار کو لٹکی رہے گی۔حزب اختلاف کا خیال تھا کہ دوسری ترمیم سے ہم بچ گئے ہیں مگر تیسری ترمیم نے دوبارہ ان کو قانونی شکنجے میں جکڑ دیا ہے۔بالخصوص شہباز شریف پر جو منی لانڈرنگ کی تلوار لٹک رہی ہے اسے وہ نئی ترمیم میں دوبارہ اپنے لیے خطرہ محسوس کررہے ہیں اور ان کی شدید تنقید کو بھی اسی تناظر میں دیکھاجائے۔حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ہمیں تو نیب کے سامنے کھڑ ا کردیا گیا ہے جب کہ چھ اکتوبر کے بعد کے مقدمات سے نیب کو باہر نکالنے کا مقصد حکومت کا خود کو این آر او دینا ہے۔کیونکہ حکومت نے تیسری ترمیم کی مدد سے چھ اکتوبر کے بعد کے اقدامات پر نیب کے دائرہ کار کو محدود کرکے ایف بی آر اور ایف آئی کے کردار کو شامل کردیا گیا ہے تاکہ آج کی حکومت میں شامل لوگ مستقبل میں نیب سے محفوظ رکھ سکیں گے جن میں گندم، ایل این جی، پشاور میٹرو، مالم جبہ جیسے منصوبے شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کیا پاکستان میں شفاف او ر بے لاگ احتساب کا عمل آگے بڑھ سکے گا اور کیا حکومتیں اس اہم مسئلہ پر سمجھوتوں کی سیاست سے باہر نکل سکیں گی؟ کیونکہ بنیادی مسئلہ ملک کا منصفانہ اور شفاف احتساب کا عمل ہے۔ اس ملک کے طاقت ور طبقات چاہے وہ حکومت یا حزب اختلاف سے ہوں یا مختلف شعبوں سے سب ہی اس ملک میں کسی بھی قسم کا احتساب نہیں چاہتے۔وہ سیاست، جمہوریت، قانون کی حکمرانی کا سہارا لے کر احتساب کے عمل کو پیچھے چھوڑ کر ملک میں بدعنوانی اور کرپشن کی آزادی چاہتے ہیں اور یہ ہی ہماری سیاسی تاریخ کا المیہ بھی ہے۔