ڈسکہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی منصوبہ بندی میں فردوس عاشق اعوان ملوث تھیں: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے بارے میں اپنی تفتیشی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں دھاندلی کی گئی تھی جس کی منصوبہ بندی میں وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان بھی ملوث تھیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے سیالکوٹ کے شہر ڈسکہ میں 19 فروری 2021 کو ضمنی انتخاب منعقد کیا گیا تھا۔ یہ انتخاب اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سید افتخار الحسن کی وفات کے بعد منعقد کیا جا رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد پانچ اپریل 2021 کو الیکشن کمیشن نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے تحت تمام افسران کو 16 اپریل کو حاضر ہونے کا کہا گیا تھا۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اس رپورٹ کی کاپی کے مطابق اس انتخاب کے دوران 20 ایسے پولنگ سٹیشن سامنے آئے تھے جہاں انتخاب کے دوران پولیس افسران نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی، بروقت انتخاب نہیں ہوا اور یہ پورا عمل کرپشن کا شکار رہا۔  یہ رپورٹ جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل نے تیار کی ہے۔ رپورٹ کی تکمیل کے لیے ان تمام افسران اور ریٹرننگ افسران سے تفتیش کی گئی ہے جو اس روز ڈیوٹی پر موجود تھے۔

رپورٹ تین حصوں پر مشتمل ہے جس کے پہلے حصے میں پریزائیڈنگ افسران اور محکمہ تعلیم کے افسران سے بات کی گئی ہے، دوسرے میں پولیس افسران، اور تیسرے میں ریٹرننگ افسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر سے بات کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کے دوران فائرنگ کے معاملے پر مسلم لیگ (نواز) کے احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ڈسکہ کے مسلم لیگ نواز کے مضبوط علاقوں میں سارا دن فائرنگ کرکے خوف و ہراس کی فضا بنائی گئی جس کا مقصد مسلم لیگ نواز کے ووٹروں کا ٹرن آؤٹ کم کرنے کی کوشش تھی۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق انتخاب 08 بجے شروع ہو کر 05 بجے ختم ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انتخاب شروع ہونے کے تین گھنٹے بعد ہی ڈسکہ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور 20 سے زائد پولنگ سٹیشنز کے باہر ہوائی فائرنگ کی گئی۔ دو ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد حالات مزید خرابی کی طرف بڑھ گئے جس کے نتیجے میں ووٹرز پریشان رہے اور فائرنگ کی وجہ سے ایک علاقے تک محدود رہ گئے۔

اس دوران ریٹرننگ افسر کو شام 5:39 بجے تک نتائج ملنا شروع ہوگئے تھے لیکن 20 پولنگ سٹیشن کی طرف سے پوچھنے پر بھی کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔ مذکورہ پولنگ سٹیشز کے افسران کے موبائل فون بند تھے اور ان ہی پولنگ سٹیشنز کے 20 پریزائیڈنگ افسران ’لاپتہ‘ بھی ہو چکے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف افسران جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز محمد اقبال شامل ہیں، اسسٹنٹ کمشنر ہاؤس ڈسکہ میں الیکشن عمل میں دھاندلی کروانے کی غرض سے منعقد ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ اسی اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی اُس وقت کی وفاقی وزیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے پریزائیڈنگ افسران کو ووٹنگ عمل سست کرنے کی ہدایت کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈسکہ میں فائرنگ اور دو ہلاکتوں کی اطلاعات آنے کے بعد رینجرز کی نفری بلائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود حالات قابو میں نہیں آ سکے۔ رپورٹ کے مطابق سینیئر اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر غلام عباس نے بتایا کہ پولنگ کے عمل کے دوران پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے لوگ اُن کے ساتھ موجود رہے اور پریزائیڈنگ افسران کو کہا گیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس کے کام میں مداخلت نہ کریں اور انھیں کام کرنے دیں۔