کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فائزر نے دوا تیار کر لی، 90 فی صد مؤثر ہونے کا دعویٰ
- ہفتہ 06 / نومبر / 2021
- 4120
دوا ساز کمپنی فائزر نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دوا تیا کی ہے۔ اس کے استعمال سے اسپتال میں داخل ہونے کی شرح اور اموات میں 90 فی صد تک کمی ہوگی۔
اس وقت کوویڈ19 میں مبتلا زیادہ تر مریضوں کا علاج انجکشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایک اور دوا ساز کمپنی میرک نے سب سے پہلے اس وبا کے علاج کے لیے گولیاں تیار کی ہیں، جس کے نتائج بہتر رہے ہیں۔ امریکہ کا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا ادارہ اس دوا کی منظوری سے پہلے اس کا جائزہ لے رہا ہے۔ جمعرات کو برطانیہ نے اسے استعمال کے لیے منظور کر لیا۔
فائزر نے کہا ہے کہ وہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو اپنی دوا کی جلد از جلد منظوری کے لیے کہے گا۔ تاہم اس پر فیصلہ ہونے میں کچھ ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔ پچھلے سال وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے دنیا بھر میں طبی ماہرین اس کے علاج کے لیے ایک ایسی دوا کی تلاش میں تھے جسے گھر پر استعمال کیا جا سکے، تاکہ مریض کو اسپتال لے جانے کی ضرورت نہ پڑے۔
پٹس برگ یونیورسٹی میں متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر جان میلرز نےکہا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے گولیوں کی شکل میں دوا کی تیاری ایک بہت اہم پیش رفت ہے۔ جمعہ کو فائزر نے 775 بالغ افراد پر اپنی دوا کے استعمال سے متعلق ابتدائی نتائج جاری کیے ہیں۔ ان افراد کو بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے فوراً بعد ایک اور اینٹی وائرل کے ساتھ یہ دوا دی گئی تھی۔ ایک مہینے کے بعد مرتب کیے جانے والے نتائج کے مطابق اس کے استعمال سے مرض کی علامتوں اور اسپتال جانے کی شرح میں 89 فی صد کمی ہوئی اور اس دوران کوئی مریض ہلاک نہیں ہوا۔
فائزر کے چیف سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر میکیل ڈولس ٹن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ ایک غیر معمولی دوا ہے۔ اس کی افادیت تقریباً 90 فی صد ہے اور یہ موت سے 100 فی صد تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اس سے قبل امریکہ نے کوویڈ19 کے علاج کے لیے ایک اور اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیوائر کی منظوری دی ہے جو وائرس کے خلاف لڑائی میں انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی مدد کرتی ہے۔ لیکن وہ دوا صرف شریان میں لگائے جانے والے انجکشن کی صورت میں اسپتال یا کلینک میں ہی دی جاتی ہے اور اس کی رسد بھی محدود ہے۔
کرونا وائرس کے علاج کے لیے دوا بنانے کے اعلان کے بعد فائزر کے شیئرز میں جمعے کے روز 8 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔