مہنگائی پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کی سخت تنقید

  • ہفتہ 06 / نومبر / 2021
  • 3340

اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلکی اور سینیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن رہنما یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینیٹ کو بتایا کہ اپوزیشن رہنما پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر بات کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن ایوان سے واک آوٹ کرے گی۔ جب ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق چلتی رہی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کھوکھر نے احتجاج کیا اور کہا کہ موجودہ ایجنڈا معطل کرتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل پر بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کی زندگی تباہ حالی کا شکار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چینی 160 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔ اس موقع پر ایوان ’چینی چور‘ اور ’آٹا چور‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اپوزیشن سینیٹرز نے مہنگائی کے باعث عام شہری کی زندگی اجیرن ہونے پر وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اپوزیشن اراکین کی جانب سے سینیٹ چیئرمین کے سامنے کھڑے ہوکر حکومت مخالف نعرے لگائے گئے اور پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے کہا کہ کسی بھی ایجنڈے سے قبل اپوزیشن قانون ساز، اشیائے ضروریہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کریں گے۔ وزیر اعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گیس کے بحران کے بارے میں بات کرنے کا غلط مشورہ دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ مشیر خزانہ کو پریس کانفرنس میں ان چیزوں کی وضاحت کرنی چاہیے تھی۔ ان کے خطاب کے 48 گھنٹے بعد قیمتیں دوبارہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

جماعت اسلامی کےسینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ملک بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سونامی میں پھنسا ہوا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ کر بالترتیب 145 اور 142 روپے فی لیٹر پر پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلو گرام چینی کے تھیلے کی قیمت میں ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں گھی کی قیمت دوگنی ہوچکی ہے جبکہ 10 کلو آٹے کی قیمت 268 روپے سے 600 روپے ہوچکی ہے۔

سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے کہا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر اضافے کے باعث بڑھی ہیں۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں نمایاں کمی کی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے 120 ارب روپے کا ایک بڑا ریلیف پیکج دیا گیا گیا ہے تاکہ اشیائے ضروریہ سستے داموں فراہم کی جاسکیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس بھی شور شرابے کی نذر ہوگیا۔ ایوان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تقاریر کے دوران ’شیم، شیم‘ کے نعروں سے گونجتا رہا، چند اپوزیشن اراکین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی خواجہ آصف نے نہ صرف پیٹرول کی قیمت میں بے مثال اضافے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اس پر مکمل بحث کا مطالبہ بھی کیا۔ خواجہ آصف نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت کالعدم تحریک لبیک پاکستان  کے ساتھ معاہدے کا راز بھی فاش کرے۔

لیگی رہنما نے سوال کیا کہ معاہدہ خفیہ کیوں رکھا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا بتایا جائے کہ ٹی ایل پی کے احتجاج میں کتنے لوگ اپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس سے کیا اور کتنا مالی نقصان ہوا۔